ماؤسٹوں کے خاتمہ سے نظریات ختم نہیں ہوں گے: سامبا سیوا راؤ

   

حلقہ جات کی از سر نو حدبندی سے جنوبی ریاستوں کو نقصان کا اندیشہ، سی پی آئی سکریٹری کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔یکم اپریل (سیاست نیوز) سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری سامبا سیوا راؤ نے کہا کہ اقتدار کی آڑ میں مرکزی حکومت ملک سے نکسلزم اور ماؤسٹ تحریک کے خاتمہ کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن نظریات کو ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ سامبا سیوا راؤ نے پارٹی قائدین پی پدما اور ٹی ٹی نرسمہا کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نکسلزم کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں ۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں جو بیان دیا ہے ، وہ حقائق سے بعید ہے۔ سامبا سیوا راؤ نے کہا کہ ملک کی جدوجہد آزادی میں کمیونسٹ پارٹیوں کے اہم رول کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد آز ادی سے آر ایس ایس کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن آر ایس ایس کو حب الوطنی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ انہوں نے امیت شاہ سے مطالبہ کیا کہ جدوجہد آزادی میں آر ایس ایس کے رول کی وضاحت کریں۔ سامبا سیوا راؤ نے کہا کہ نکسلزم کا صفایا ممکن ہے لیکن نظریات ہمیشہ برقرار رہیں گے۔ سیکوریٹی فورسس کے ذریعہ فرضی انکاؤنٹرس میں ماؤسٹ قائدین اور کارکنوں کو ہلاک کیا گیا ۔ سامبا سیوا راؤ نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ پر اعتراض کیا جس میں عیسائی مذہب اختیار کرنے پر ایس سی موقف کی عدم برقراری کی بات کہی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دلت ، مسلم اور عیسائی مذاہب اختیار کرنے والے افراد کو تحفظات برقرار رکھے جائیں۔ سپریم کورٹ کو اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرنی چاہئے ۔ سامبا سیوا راؤ نے پارلیمنٹ اور اسمبلی حلقہ جات کی از سر حد بندی کیلئے خصوصی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 50 فیصد نشستوں میں اضافہ سے جنوبی ریاستوں کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے بجٹ سیشن میں سی پی آئی کی جانب سے عوامی مسائل کو بہتر طور پر پیش کیا گیا۔ سی پی آئی سکریٹری نے بتایا کہ 15 اپریل سے ریاست بھر میں گھر گھر سی پی آئی مہم کا آغاز کیا جارہا ہے ۔ اس مہم کے تحت عوام سے عطیات وصول کئے جائیں گے ۔ انہوں نے غیر منظم ورکرس کے حق میں عنقریب جدوجہد کا اعلان کیا۔ سامبا سیوا راؤ نے کیرالا میں بائیں بازو اتحاد کی کامیابی کا دعویٰ کیا۔1