حیدرآباد 24 فروری (سیاست نیوز) ممنوعہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) کے 4 روپوش قائدین نے تلنگانہ پولیس کے روبرو خودسپردگی اختیار کرلی اور سماجی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ تلنگانہ ڈائرکٹر جنرل آف پولیس بی شیودھر ریڈی نے کہاکہ ان ماؤسٹ قائدین کی خودسپردگی سے تلنگانہ میں ماؤسٹ نیٹ پوری طرح ختم ہوگیا۔ ان ماؤسٹ قائدین میں پولیٹ بیورو ممبر اور مرکزی کمیٹی ممبر تپری تروپتی عرف دیوجی عرف کما دادا، سی سی ایم مالا راجی ریڈی عرف سنگرام، تلنگانہ اسٹیٹ کمیٹی سکریٹری بڈے چوکا راؤ عرف دامودر عرف جگن اور اسٹیٹ کمیٹی ممبر نونے نرسمہا ریڈی عرف گنگنا عرف سنو دادا شامل ہیں۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی پی شیودھر ریڈی نے بتایا کہ دیووجی 44 سال، راجی ریڈی 46 سال، دامودر 28 سال اور نرسمہا ریڈی 36 سال سے روپوش تھے۔ انہوں نے اس خودسپردگی کو ماؤسٹ تنظیم کیلئے بڑا جھٹکہ قرار دیا۔ ماؤسٹ لیڈرس کی سماجی دھارے میں شمولیت کے ساتھ تنظیمی ساخت پوری طرح ختم ہوگئی ہے، صرف ایک مرکزی کمیٹی رکن بچ گیا ہے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ سی پی آئی (ماؤسٹ) کی مرکزی کمیٹی اب صرف ایک رکن تک محدود ہو چکی ہے جو تنظیم کے خاتمہ کی نشاندہی کرتی ہے۔ دیووجی نے 1980ء کی دہائی میں تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی۔ تپری تروپتی عرف دیووجی (62)، جو جگتیال ضلع کے کورٹلہ کے رہائشی ہیں، نے 1980ء کی دہائی میں اسٹوڈنٹ یونین سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرتے ہوئے تحریک میں شامل وابستہ ہوئیتھے۔ انہوں نے دنداکارنیا دستوں میں کمانڈر کے طور پر کام کیا، پھر مرکزی کمیٹی ممبر اور بالآخر پولیٹ بیورو ممبر بنے۔ وہ سنٹرل ملٹری کمیشن کے انچارج اور تنظیم کے ترجمان ’ابھے‘ کے نام سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ڈی جی پی نے یہ بتایا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کی ماؤسٹوں سے خودسپردگی کی اپیل کے بعد اب تک 11 سرگرم انڈر گراؤنڈ ماؤسٹ قائدین خودسپردگی اختیار کرچکے ہیں۔ اُنھوں نے پھر ایک مرتبہ روپوش ماؤسٹ قائدین سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر سماجی دھارے میں شامل ہوجائیں اور اُنھوں نے یہ تیقن دیا کہ خودسپرد ہونے والے ماؤسٹوں کی حکومت بازآبادکاری کرے گی اور اُنھیں باوقار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرے گی۔ب