ماؤسٹ مسئلہ پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جاناریڈی سے ملاقات

   

امن مذاکرات کے امکانات کا جائزہ، حکومت عنقریب کوئی فیصلہ کرے گی
حیدرآباد 28 اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیرداخلہ کے جاناریڈی کی قیامگاہ پہونچ کر ملاقات کی اور تلنگانہ کے سرحدی علاقوں میں چھتیس گڑھ پولیس کی جانب سے ماؤسٹوں کے خلاف جاری کارروائیوں اور حالیہ انکاؤنٹرس پر بات چیت کی۔ اِس موقع پر حکومت کے مشیر برائے عوامی اُمور ڈاکٹر کے کیشو راؤ موجود تھے۔ ماؤسٹوں کی جانب سے مرکزی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں سکیورٹی فورسیس کے ذریعہ تلاشی مہم اور انکاؤنٹرس کا سلسلہ جاری ہے۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے فکرمند شہریوں اور سیول سوسائٹی پر مشتمل پیس ٹاکس کمیٹی نے کل چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو چھتیس گڑھ میں جنگ بندی کے لئے راضی کرنے کی درخواست کی۔ کمیٹی کے کنوینر جسٹس چندر کمار، پروفیسر ہرگوپال، جمپنا اور دوسروں نے چھتیس گڑھ میں پولیس کارروائیوں میں بڑے پیمانہ پر قبائلیوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر نے تیقن دیا تھا کہ وہ اِس مسئلہ پر سینئر لیڈر جاناریڈی سے مشاورت کریں گے جو سابق میں وزیرداخلہ کی حیثیت سے ماؤسٹوں سے مذاکرات کا تجربہ رکھتے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے جاناریڈی اور کیشو راؤ سے ماؤسٹوں کے مسئلہ پر حکومت کو تجاویز پیش کرنے کی خواہش کی۔ ملاقات کے بعد چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہاکہ چھتیس گڑھ میں سکیورٹی فورسیس کی کارروائیوں کے مسئلہ پر کانگریس پارٹی پہلے کوئی موقف اختیار کرے گی جس کے بعد ہی حکومت اپنے موقف کا اعلان کرے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ ماؤسٹوں کے مسئلہ پر قومی سطح پر مذاکرات کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ماؤسٹوں سے مذاکرات کے لئے مرکزی حکومت کو کمیٹی تشکیل دینی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ حکومت ماؤسٹ مسئلہ کو لاء اینڈ آرڈر نہیں بلکہ سماجی مسئلہ تصور کرتی ہے۔ مرکزی حکومت نے مارچ 2026 ء تک ماؤسٹوں کے خاتمہ کا اعلان کرتے ہوئے چھتیس گڑھ میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کردی ہے۔ حالیہ عرصہ میں سینکڑوں ماؤسٹ انکاؤنٹر میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ مرکزی فورسیس کے علاوہ چھتیس گڑھ پولیس کے تقریباً 5 ہزار جوان تلنگانہ، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹرا کے سرحدی علاقوں میں تلاشی مہم میں مصروف ہیں۔ سیول لبرٹیز اور سیول سوسائٹی کا ماننا ہے کہ تلاشی مہم کے نام پر قبائلی عوام کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اُمید کی جارہی ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی پارٹی کے سینئر قائد جانا ریڈی اور حکومت کے مشیر کیشو راؤ کی تجاویز کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔1