ماؤنوازوں نے سرکردہ لیڈر راما کرشنا کی موت کی تصدیق کردی

   

آخری رسومات بھی انجام دے دی گئی ، حکومت ۔ نکسلائیٹس مذاکرات میں اہم رول ادا کیا تھا
حیدرآباد /15 اکٹوبر ( سیاست نیوز )ماؤنوازوں کے سرکردہ قائد اے راجو ہرگوپال عرف راما کرشنار( آر کے ) کی موت کی ماوسٹ سنٹرل کمیٹی نے تصدیق کی ہے ۔ ماویسٹ پارٹی کے ترجمان آبھئے کی جانب سے اس کی باضابطہ طور پر تصدیق کی گئی ہے ۔ گذشتہ کچھ عرصہ سے آر کے گردے کے عارضہ میں مبتلا تھے ۔ علاج کرانے کے باوجود انہیں نہ بچاپانے کا اعتراف کیا گیا ہے ۔ ڈائیلاسیس کے دوران ہی انہوں نے آخری سانس لی اور ان کی آخری رسومات بھی انجام دے دی گئی ہے ۔ آندھراپردیش کے ضلع گنٹور میں پیدا ہوئے آر کے نے ورنگل نیٹ سے بی ٹیک کی تعلیم حاصل کی ۔ بعد ازاں وہ نکلائیٹس سرگرمیوں میں شامل ہوگئے ۔ چار دہوں تک وہ ماویسٹ پارٹی میں اہم عہدوں پر فائز رہے ۔ فی الحال وہ سنٹرل کمیٹی کے رکن تھے ۔ کئی انکاونٹرس میں وہ اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے ۔ متحدہ آندھرا میں حکومت اور ماویسٹوں کے درمیان امن مذاکرات میں انہوں نے اہم رول ادا کیا تھا ۔ آندھرا پردیش ، چھتیس گڑھ ، جھاڑکھنڈ اور اوڈیشہ کی حکومتوں نے راما کرشنا کے سر پر 97 لاکھ روپئے کا انعام رکھا تھا ۔ 1978 میں آر کے نے پیپلزوار کی رکنیت قبول کی 1982 سے بحیثیت کارکن مکمل خدمات انجام دی ۔ 1986 میں وہ گنٹور سکریٹری اور 1982 میں اسٹیٹ کمیٹی رکن نامزد ہوئے ۔ 2000 سے 10 سال تک آندھرا اوڈیشہ بارڈر سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دی ۔ 2018 میں انہیں سنٹرل کمیٹی پولیٹ بیورو میں مقام حاصل ہوا ۔ 2004 میں آندھراپردیش حکومت سے امن مذاکرات کے وفد کی آر کے نے قیادت کی تھی ۔ ن

ماویسٹ لیڈر آر کے کو نارائنا کا خراج
حیدرآباد /15 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) ماویسٹ سنٹرل لیڈر آر کے کی موت پر سی پی آئی کے سینئیر قائد نارائنا نے آر کے کے افراد خاندان سے اظہار یگانگت کیا اور آر کے کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو میں اختلافات ہیں ۔ مقصد ایک ہے اور راستے الگ ہیں ۔ آر کے بھی سوشلسٹ نظام کیلئے جدوجہد کر رہے تھے اور انہو ںنے جن روایات کو اپنایا تھا اس کے مقصد کیلئے خود کو وقف کردیا ۔ نارائنا نے سی پی آئی کی جانب سے تعزیت پیش کی ۔ ع