مدرسہ امام جعفر صادق گنتکل میں اجتماع برائے خواتین، جامعتہ المومنات کی معلمات کا خطاب
گنتکل /2 جنوری ( ذریعہ میل ) مدرسہ امام جعفر صادق للبنات گنٹکل میں منعقدہ اجتماع بضمن جامعۃ المؤمنات کی دویومی کل ہند خواتین کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے ڈاکٹرمفتیہ حافظہ رضوانہ زرین پرنسپل وشیخ الحدیث جامعۃ المؤمنات نے کہا کہ مسلم خواتین کادینی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونا ضروری ہے کیوں کہ ماؤں کی غفلت وکوتاہی کی بناء پر آج ان کی اولاد سنت نبوی سے دور ہے ۔بڑے چھوٹوں کا پاس ولحاظ نہیں ،عصری تعلیم پرتوجہ ہوتی ہے دینی تعلیم کو نظر انداز کیا جاتا ہے ، والدین کا انتقال ہوجائے تو وہ لڑکا نماز جنازہ پڑھنے کا اہل اور ایصال ثواب بھی نہیں کرسکتا ہے ،موجودہ معاشرہ میںمسلم خواتین وطالبات دینی احکامات سے بہت دور ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ دین سے دور ہیں اللہ کا قرب حاصل کرناہو تو ہم کو اپنے اللہ اس کے رسول سے محبت اور دینی تعلیم سے محبت کرنا چاہئے ۔محترمہ نے مزید کہا کہ عورت اسلام کی نگاہ میں ایک عظیم نعمت او ر قیمتی جوہر ہے جس طرح اعلیٰ وقیمتی سامان کو پورے اہتمام واحتیاط کے ساتھ رکھا جاتا ہے اسی طرح عورت کو بھی ہمیشہ پردہ کے ساتھ مستور رہنا چاہئے ، اسلام نے پردہ کو خاص اہمیت دی ہے اور بڑی سختی سے اسکو اپنانے کی تاکید کی ہے اس نے عورت کو حکم دیا ہے کہ پردہ کا خاص اہتمام کریں ۔ غیر محرموں کے سامنے اپنے حسن کا مظاہرہ نہ کریں، بلاضرورت بازاروں، ہوٹلوں ،شاہراؤں اور گذرگاہوں کی سیر نہ کریں۔ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا عور ت سرتا پا پردہ ہے جب وہ بے پردہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسکو تاکنے لگتا ہے۔ آج ماحول اتنا زہرآلود ہوچکا ہے اور بے راہ روی اور فحاشی ،عریانیت عام ہوچکی ہے ۔لڑکیاں باریک لباس زیب تن کرتی ہیں جس سے جسم کا حصہ نظر آتا ہے ،ڈاکٹرمفتیہ رضوانہ زرین نے تمام خواتین وطالبات کو نصیحت کی کہ وہ اسلامی تعلیمات پرگامزن رہیں، کیوں کہ عورت ہی وہ عظیم ہستی ہے جو اپنے بہتر اخلاق ،کردار، عادات سے گھر کو جنت نما بناسکتی ہے ایک خاتون کی بہتر اصلاح سے ایک خاندان کی اصلاح ہوتی ہے اور ایک خاندان سے ایک معاشرہ کی اصلاح ہوتی ہے اور ایک معاشرہ سے ایک شہر وملک کی اصلاح ہوتی ہے۔جلسہ کا آغاز ڈاکٹرمفتیہ نازیہ عزیز مؤمناتی صدرمعلمہ مدرسہ امام جعفر صادق للبنات کی قرأت ،طالبہ مدرسہ ہذا کی نعت شریف سے ہوا ۔محترم مولوی شیخ جعفر صادق ناظم مدرسہ ہذا نے پس پردہ جلسہ کے انتظامات کئے ۔ دعا وسلام پر جلسہ کا اختتام عمل میںلایاگیا۔