لندن ۔ بچوں کے حقوق کی عالمی تنظیم سیو دا چلڈرن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مائنمار کی فوج نے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد کشیدگی کے دوران مبینہ طور پر 46 سے زائد بچوں کو بھی ہلاک کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ مائنمار کی صورت حال دگرگوں ہے، جہاں 6 سالہ بچہ بھی فوج کی فائرنگ کی زد میں آچکا ہے۔ مقامی تنظیموں کے مطابق مائنمار میں اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 536 سے زائد ہوچکی ہے۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز سڑکوں پر اندھادھند فائرنگ کرتی ہیں اور کئی افراد اپنے گھروں میں ہی نشانہ بن چکے ہیں۔ منڈالے سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کا کہنا تھا کہ ان کی 6 سالہ بچی کو پولیس نے اس وقت نشانہ بنایا، جب وہ ان کے والد کو گرفتار کرنے کے لئے گھر پر چھاپا مار رہی تھی، جو مارچ کے بعد واپس گھر آئے تھے۔
واضح رہے کہ شمالی کوریا نے اپنے تجربات کے دوران نیوکلیر ہتھیار لے جانے والے میزائل کے تجربے کا دعویٰ کیا۔ شمالی کوریا کے سرکاری ٹی وی پر ایک تصویر نشر کی گئی، جس میں میزائل کے ہدف کو نشانہ بنانے پر فوجی عہدے دار تالیاں بجارہے ہیں۔ ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والا یہ میزائل ڈھائی ٹن وزن اٹھانے کے قابل ہے۔ دوسری جانب امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے میزائل تجربے کو جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔ بائیڈن نے ان تجربات کو عالمی قرارداد کی خلاف ورزی قرار دیا۔