کانگریس قائد محمد آصف حسین سہیل کے زیر اہتمام
مائیگرنٹس کے لیے لاریوں کا انتظام
حیدرآباد۔20مئی (سیاست نیوز) شہر سے روانہ ہونے والے مزدوروں کی واپسی کے لئے مختلف گوشوں سے انتظامات کو یقینی بنایا جارہا ہے اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ بیرون ریاست سے تعلق رکھنے والے مزدور جو کہ شہر میں پھنسے ہوئے تھے ان کی واپسی کے انتظامات کئے جائیں ۔ شہر کو شاہراہوں سے جوڑنے والی سڑکوں پر آج بھی پیدل روانہ ہونے والے مزدوروں کے گروہ نظر آرہے ہیں جو کہ سینکڑوں کیلو میٹر پیدل چل چکے ہیں اور آگے سینکڑوں میٹر پیدل چلنے کا ارادہ کئے ہوئے ہیں۔کانگریس قائد جناب محمد آصف حسین سہیل کی جانب سے ان مزدوروں کو لاریوں کے ذریعہ ان کے آبائی مقامات کو منتقلی کے انتظامات کئے جارہے ہیں اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ انہیں جلد از جلد ان کے آبائی مقام کو پہنچایا جاسکے۔ جنابمحمد آصف حسین سہیل نے بتایا کہ ٹولی چوکی ‘ شمس آباد اور شہر کے دیگر شاہراہوں کے ذریعہ پیدل روانہ ہونے والوں کی حالت کو دیکھ کر اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ شاہراہوں پر موجود لاریوں کو جو خالی کھڑی ہیں ان کے ذریعہ روانہ کیا جائے۔محمد آصف حسین سہیل کی جانب سے دونوں شہروں کے کئی سلم علاقوں میں راشن کی تقسیم کے علاوہ روزانہ تیار غذاء کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے لئے ان کی تنظیم یا ان کی جانب سے کوئی چندہ وصول نہیں کیا جاتا اور نہ ہی مزدوروں کی روانگی کے لئے کوئی چندہ وصول کیا جا رہاہے بلکہ اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے ان مزدوروں کو راشن کے ساتھ ان کے آبائی مقام تک پہنچانے کے اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے بتایا کہ مزدور جو پیدل چل رہے ہیں ان کے پیروں میں چھالے پڑنے لگے ہیں اور پیدل چلنے والے مزدوروں کی زندگیوں کے خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہاہے ۔
اسی لئے جو گاڑی دستیاب ہیں ان کے ذریعہ مزدوروں کی روانگی کے انتظامات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سکینہ فاؤنڈیشن کی جانب سے راشن کی تقسیم کے علاوہ تیار غذاء کی فراہمی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ حکومت کی جانب سے کئے گئے غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن سے نمٹنے میں بہ حیثیت شہری اپنا کردار ادا کیا جاسکے۔جناب محمد آصف حسین سہیل نے کہا کہ ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی جانب سے اگر مزدوروں کی منتقلی اور انہیں آبائی مقام تک پہنچانے کے انتظامات کو بہتر بنایا جاتا ہے تو وہ اور ان کی تنظیم کی طرح کام کرنے والی دیگر تنظیموں کی جانب سے راشن اور غذائی پیاکٹس کی تقسیم پر توجہ دی جاسکتی ہے لیکن مزدوروں کے مسائل کے سبب اس جانب بھی توجہ دینی پڑرہی ہے کیونکہ ان کی زندگیوں کی بھی دیگر انسانوں کی طرح یکساں اہمیت ہے اور مزدور کی بھوک بھی بھوک ہے اور اس کی تکلیف بھی تکلیف ہی ہے اسی لئے انہیں راحت پہنچانا ضروری ہے۔