نئی دہلی۔ 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کورونا وائرس لاک ڈاؤن جو 25 مارچ سے یکایک لاگو کیا گیا، اس سے لاکھوں مائیگرنٹ ورکرس غیرمتوقع مصیبت کا شکار ہوگئے۔ آخرکار کئی ہفتوں تک اپنے گھروں سے دور فاقہ کشی پر مجبور ہونے کے بعد حکومت نے 12 مئی سے خصوصی ٹرینوں کے ذریعہ مائیگرنٹ ورکرس کو ان کے آبائی مقامات تک واپس پہنچانے کا سلسلہ شروع کیا۔ تاہم اس سے کئی ہفتے قبل ہی ہزاروں ورکرس پیدل ہی اپنے دیہات اور ٹاؤنس کو واپس نکل پڑے تھے۔ یہ ورکرس چلچلاتی دھوپ میں سخت موسم کا شکار ہوئے ، بعض بھوک کی تاب نہ لا سکے اور دیگر سڑک حادثات میں مر گئے۔ پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اترپردیش ، مدھیہ پردیش اور بہار میں 15 مائیگرنٹ ورکرس مختلف نوعیت کے حادثات میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ ان حادثوں میں تقریباً 100 دیگر زخمی ہوئے ہیں جن کا فوری طور پر کوئی پرسان حال نہیں۔ ہر کوئی خصوصی ٹرینوں سے استفادہ نہیں کر پا رہا ہے ۔ چنانچہ ورکرس ٹرکوں کے ذریعہ منتقل ہورہے ہیں ، کوئی سائیکل پر چل پڑا ہے یا پھر پیدل ہی اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔