مائیگرنٹ ورکرس کے سبب تلنگانہ میں کورونا کیسس میں اضافہ

,

   

مختلف اضلاع میں نئے کیسس، وزیر صحت ای راجندر کا اعتراف
حیدرآباد۔/26 مئی، ( سیاست نیوز) وزیر صحت ای راجندر نے بتایا کہ ریاست میں کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے حکومت ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔ حالیہ دنوں میں مائیگرنٹ ورکرس کے سبب کورونا کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے تلنگانہ واپس ہونے والے مائیگرنٹ ورکرس کی صحت پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ مائیگرنٹ ورکرس میں بڑے پیمانے پر ٹسٹ کئے جارہے ہیں اور معمولی علامات کی صورت میں ہاسپٹل سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف ریاستوں میں کام کرنے والے مائیگرنٹ ورکرس تلنگانہ آبائی مقامات واپس ہورہے ہیں۔ ریاست کی سرحد اور بس و ریلوے اسٹیشنوں پر مائیگرنٹ ورکرس کی اسکریننگ کی جارہی ہے۔ کسی بھی علامات کی صورت میں انہیں کورنٹائن کیا جارہا ہے۔ سیمپلس حاصل کرتے ہوئے ٹسٹ کیلئے بھیجا جارہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پر مائیگرنٹ ورکرس کے معاملہ میں تساہل و لاپرواہی کا الزام بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ابتداء میں بیرونی ممالک سے آنے والوں کے ذریعہ وائرس پھیلا اس کے بعد نئی دہلی کے نظام الدین مرکز سے آنے والوں میں یہ علامتیں پائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر اور بعض دیگر علاقوں میں ابھی بھی نظام الدین مرکز سے مربوط کیسس منظر عام پر آرہے ہیں۔ تازہ ترین معاملہ میں مائیگرنٹ ورکرس کورونا کیسس میں اضافہ کا اہم ذریعہ ثابت ہوئے ہیں۔ ممبئی، سورت اور دیگر بڑے شہروں میں محنت مزدوری کرنے والے تلنگانہ کے ورکرس واپس ہورہے ہیں اور تاحال ایک لاکھ سے زیادہ افراد تلنگانہ واپس ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ فضائی راستے کے علاوہ ٹرین اور بسوں سے واپس ہونے والے افراد بشمول طلبہ کی اسکریننگ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض ورکرس پیدل راستہ طئے کرتے ہوئے اپنے گاؤں پہنچ گئے جس کے بعد ان میں کورونا کی علامتیں پائی گئیں۔ ہر گاؤں میں واپس ہونے والے افراد کی تفصیلات وہاں کے سرپنچ اور دیگر ذمہ دار درج کررہے ہیں۔ آشا ورکرس گاؤں میں گھر گھر جاکر گھر والوں کی صحت کی نگرانی کررہے ہیں۔ کئی مقامات پر بعض خاندانوں کو ہوم کورنٹائن رکھا گیا ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ نرمل، جگتیال، سرسلہ، نظام آباد اور محبوب آباد میں دیگر ریاستوں سے مائیگرنٹ لیبرس کی واپسی ہوئی ہے اور حکومت ان کی صحت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔