تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے ضرورت اور بلڈرس کے دباؤ کے تحت فیصلے ، اکثر مزدور گھر واپسی کے لیے بضد
حیدرآباد۔8مئی(سیاست نیوز) بیرونی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے اس شہر میں مقیم (مائیگرنٹ ورکرس ) مزدوروں کی واپسی کیلئے پولیس کی جانب سے جاری اندراج روک دیا گیا ہے۔ محکمہ پولیس کی جانب سے بیرونی مزدوروں کی واپسی کیلئے ان کی تفصیلات کے اندراج کے لئے جاری کاموں کو روکتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکو مت کی جانب سے موصولہ ہدایات کے بعد ان کاموں کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق شہر حیدرآباد میں موجود تعمیراتی سرگرمیوں کے آغاز اور بلڈرس کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کے تحت حکومت کے عہدیداروں نے دیگر ریاست سے تعلق رکھنے والے لیبر کی واپسی کے لئے اندراجات کا سلسلہ بند کیا ہے جبکہ عہدیدارو ںکا کہنا ہے کہ ریاست میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے اقدامات اور چیف منسٹر کی جانب سے بیرون ریاست سے تعلق رکھنے والے مزدور طبقہ کو شہر میں رہنے کی تاکید کے بعد عہدیداروں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے ذرائع کا کہناہے کہ مز دوروں کو روکنے یا ان کے آبائی مقام واپسی کی راہ ہموار نہ کرنے کی غرض سے رجسٹریشن روکا نہیں گیا ہے بلکہ ریاستی ومرکزی حکومت کی جانب سے پہلے مرحلہ میں جتنے مزدوروں کی واپسی کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا اس نشانہ کی تکمیل کے بعد ریاست کے مختلف مقامات پر جاری رجسٹریشن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اڈیشہ ‘ مغربی بنگال ‘ اتر پردیش کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کا کہناہے کہ انہیں اطلاع دیئے بغیر رجسٹریشن بند کردیا ہے اور یہ ہراسانی کے مترادف ہے۔ مزدوروں میں یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ ریاستی حکومتیں انہیں یرغمال بناتے ہوئے بندھوا مزدور کی طرح کام لینے کی منصوبہ بندی کررہی ہیں کیونکہ ملک کی تمام ریاستوں کو اس بات کا احساس ہوتا جا رہاہے کہ اگر ان کی ریاست سے مزدورو اپس چلے جاتے ہیں تو ان کی ریاست کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوگی اور ریاست میں موجود مشینیں مزدوروں کے بغیر کارکرد نہیں رہ سکیں گی اسی لئے حکومت کی جانب سے مزدوروں کی روانگی میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ مرکزی حکومت کی وزارت داخلہ کی جانب سے بیرون ریاست مزدروں کی روانگی کے سلسلہ میں اقدامات کے اعلان اور احکامات کے ساتھ ہی ملک بھر کی تمام ریاستوں میں بشمول تلنگانہ میں بیرون ریاست مزدوروں کی واپسی کیلئے اقدامات کئے جانے لگے تھے اور ان کے لئے ریاست تلنگانہ سے ایک ہفتہ کے دوران 40خصوصی ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن ابتدائی تین تا چار یوم کے دوران مزدوروںکی واپسی کے لئے ان کی تفصیلات کے اندراجات کے ساتھ ان کی روانگی کے انتظامات کئے گئے لیکن اب جو لوگ پولیس اسٹیشن پہنچ کر روانگی کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں ان کویہ کہا جا رہاہے کہ اب واپسی کا سلسلہ بند کردیا گیا ہے اور ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق اب عہدیداروں کی جانب سے کوئی نئے اندراجات نہیں کئے جائیں گے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں موجود ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کا کہنا ہے کہ ان کی ترجیحات اب کام کا ج کا آغاز یا دو وقت کی روٹی نہیں ہے بلکہ وہ اولین فرصت میں اپنے افراد خاندان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور اب کچھ دن کے ان کے اپنے گائوں میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ زندگی گذارنا چاہتے ہیں لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے معاشی سرگرمیوں کے آغاز کے لالچ کے ساتھ انہیں روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اب کسی بھی مزدور کی ترجیح کام یا روزگار نہیں ہے کیونکہ وہ انتہائی مشکل دور سے گذر چکے ہیں اور اب مزید خود کو یا اپنے افراد خاندان کو مشکل حالات میں مبتلاء کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔عہدیدارو ںکا کہنا ہے کہ پہلے مرحلہ کے رجسٹریشن کو بند کیا گیا ہے اور اگر اس کے بعد بھی کوئی مزدور واپسی کے خواہاں ہیں تو انہیں مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے رہنمایانہ خطوط کے مطابق موقع فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے آبائی مقام پر واپس ہوسکیں۔
