مابعد نتائج حضور آباد پر ٹی آر ایس کا پوسٹ مارٹم

   

دلت بندھو اسکیم کار آمد نہیں ہوئی، قائدین کی تبدیلی کے باوجود ووٹ تبدیل نہیں ہوئے
حیدرآباد۔ 3 نومبر (سیاست نیوز) حضورآباد ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد ٹی آر ایس کے حلقوں میں مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ ٹی آر ایس قیادت کی جانب سے یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ وینا ونکا منڈل میں ٹی آر ایس کو اکثریت حاصل ہوئی۔ ایلندوکنٹہ منڈل میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کو مساوی ووٹ آئیں گے۔ جمی کنٹہ اور کملا پور منڈلس میں اکثریت کم ہونے کے باوجود معمولی اکثریت سے ٹی آر ایس کو کامیابی حاصل ہونے کا یقین تھا۔ مگر نتائج ٹی آر ایس کے توقع کے مطابق برآمد نہیں ہوئے۔ ایٹالہ راجندر کو وزارت سے برطرف کرنے کے بعد ایٹالہ راجندر کی جانب سے استعفی دینے اور ضمنی انتخاب منعقد ہونے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے حکمران جماعت نے تب ہی سے ضمنی انتخاب کی تیاریوں کا آغاز کردیا تھا۔ ٹی آر ایس میں ٹربل شوٹر کا اعزاز رکھنے والے وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ کو حضورآباد ضمنی انتخاب کا انچارج نامزد کیا گیا تھا جنہوں نے خصوصی انتخابی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے چار ماہ تک حضور آباد میں قیام کرتے ہوئے پارٹی امیدوار کی انتخابی مہم چلائی۔ کے ٹی آر کے سوائے تقریباً تمام وزرا نے انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ دلت ووٹرس کی زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے ان کی تائید حاصل کرنے کے لئے دلت بندھو اسکیم کا اعلان کیا گیا، باوجود اس کے ایس سی ووٹ حاصل کرنے میں ٹی آر ایس ناکام رہی۔ دوسری طرف اس طرح کی اسکیم بی سی طبقات کے لئے اعلان نہ کرنے پر بی سی طبقات کے ووٹ سے بھی ٹی آر ایس محروم ہوگئی۔ چیف منسٹر کی جانب سے انتخابی مہم میں حصہ نہ لنے پر بھی ٹی آر ایس کو نقصان ہونے کا ٹی آر ایس کے قائدین دعویٰ کررہے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہیکہ ٹی آر ایس کا امیدوار عوام میں مقبول اور قابل قبول نہیں تھا۔ حلقہ اسمبلی حضورآباد میں 24 ہزار دلت خاندان ہونے کی سروے میں نشاندہی ہونے پر 16 ہزار خاندانوں کے بینک کھاتوں میں فی خاندان 10 لاکھ روپے جمع کرائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ آسرا پنشن رعیتو بندھو کے بشمول حکومت کی فلاحی اسکیمات سے ٹی آر ایس کو تائید حاصل ہونے کی توقع کی گئی تھی۔ انتخابات سے قبل مختلف طبقات کے لئے 18 سے زائد بھونس کی تعمیرات کے لے سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس کے باوجود ان طبقات کے اکثریتی ووٹ حاصل نہیں ہوئے۔ ایٹالہ راجندر کو شکست دینے کے لئے کانگریس کے طاقتور قائد کوشک ریڈی کو ٹی آر ایس میں شامل کرلیا گیا۔ باوجود اس کے کانگریس کے ووٹ ٹی آر ایس کو تبدیل نہیں ہوئے۔ سابق وزرا ایل رمنا، ای پدی ریڈی کے علاوہ دوسرے قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کرلیا گیا۔ حضورآباد کے قائدین کو بی سی ۔ ایس سی کارپوریشن اور کمیشن کا صدرنشین نامزد کیا گیا۔ اس کے باوجود ٹی آر ایس کامیاب نہیں ہوئی۔ ن