ماحولیات اور جنگلاتی زندگی کا تحفظ ناگزیر

   

ڈان اسکول میں تہنیتی تقریب ۔ ممتاز نشانہ باز نواب شفاعت علی خان کا خطاب

حیدرآباد ۔ یکم ڈسمبر (پریس نوٹ) جنگلات کے رقبہ میں کمی اور جانوروں کی تعداد میں اضافہ کے باعث جنگلی جانور بشمول شیر غیرہ انسانی آبادی کی طرف آرہے ہیں اور یہ انسانوں کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ حکومتوں کو چاہئے کہ جنگلات کے تحفظ کے لئے سخت پالیسی وضع کرتے ہوئے جنگلات کے رقبہ میں اضافہ کے اقدامات کریں کیوں کہ یہ جنگلی جانوروں کے تحفظ کے علاوہ ماحولیات کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز ماحولیاتی جہدکار، مشہور نشانہ باز نواب شفاعت علی خان نے کیا۔ وہ ڈان ہائی اسکول ملک پیٹ میں تہنیتی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ گوناگوں خوبیوں کے مالک نواب شفاعت علی خان نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ ہر حال میں ڈسپلن کی پابندی کریں۔ اساتذہ اور والدین کا ادب و احترام کریں۔ کامیابی کے لئے نظم و ضبط کی پابندی اور انکساری ضروری ہے۔ انھوں نے اپنے کیرئیر کے دوران پیش آنے والے واقعات کو طلبہ کے سامنے پیش کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ریاستی حکومتوں کی خواہش و درخواست پر کئی آدم خور جانوروں کو ہلاک یا ان کو پکڑنے میں مدد کی۔ وہ ماحولیاتی توازن کی برقراری اور جنگلی جانوروں کے تحفظ کے زبردست حامی ہیں۔ اُنھوں نے تمام افراد کو شجرکاری کی ترغیب دی۔ شفاعت علی خان کے فرزند اصغر علی خان نے گزشتہ سال مہاراشٹرا میں شیرنی اوانی کو ہلاک کرنے کی تفصیلات پیش کی کیوں کہ اس آدم خور شیرنی نے کئی افراد کو ہلاک کیا تھا۔ متاثرہ دیہاتوں کے افراد نے چندہ جمع کرکے 21 ہزار روپئے کا ڈیمانڈ ڈرافٹ اصغر علی خان کو پیش کرتے ہوئے اپنے جذبات و خوشی کا اظہار کیا اور شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ڈان گروپ آف انسٹی ٹیوشن کے ڈائرکٹر جناب فضل الرحمن خرم نے ڈان اسکول کا دورہ کرنے پر نواب شفاعت علی خان، اصغر علی خان، بیگم شاہین خان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر انڈین ایرفورس کے سابق عہدیدار میر قطب الدین خلیل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مہمانوں کے ہاتھوں اسپورٹس، گیمس میں نمایاں کارکردگی پیش کرنے والے طلبہ میں انعامات کی تقسیم عمل میں آئی۔