پیوپلز پلازا پر ہارٹیکلچر نمائش کا افتتاح ، ٹی ہریش راؤ کا تاثر
حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ پودے لگانا مستقبل کی نسلوں کو اثاثہ جات باٹنے کے مترادف ہے۔ اگر بڑھتی ہوئی آلودگی پر فوری قابو نہیں پایا گیا تو مستقبل میں عوام کو سانس لینے کے لیے آکسیجن خریدنا پڑے گا ۔ آج نکلس روڈ پیپلز پلازا پر اہتمام کردہ آل انڈیا ہارٹیکلچر نمائش کا افتتاح کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ آلودگی میں تیزی سے اضافہ ہونا باعث تشویش ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر ایک ویژن رکھنے والی شخصیت ہے ۔ انہوں نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاست میں جنگلات کو فروغ دینے کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے اور شہری علاقوں میں بھی گارڈنس بلاکس کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جارہا ہے ۔ ریاست کے تمام منڈلس اور شہروں میں نرسریز کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے ۔ سرسبز و شاداب کو فروغ دینے کے لیے مقامی اداروں میں 10 فیصد کا خصوصی بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہم میں حصہ لینا مستقبل کی نسلوں کو اثاثہ جمع کرنے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دولت رہتی نہیں رہتی کہہ نہیں سکتے ۔ دولت جانے پر دوبارہ کمائی جاسکتی ہے مگر صحت خراب ہونے پر دوبارہ عام حالت بحال نہیں ہوسکتے ۔ تلنگانہ حکومت نے اس کی نشاندہی کرتے ہوئے ہریتا ہرم ، سوشیل فاریسٹ ، اربن فاریسٹ پارکس کو ترقی اور فروغ دینے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کررہی ہے ۔ شہروں اور ٹاونس کے علاوہ مقامی اداروں میں کم از کم 10 فیصد فنڈس ماحولیات کے تحفظ پر خرچ کیے جارہے ہیں ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ شجرکاری کرنا ہماری انفرادی ذمہ داری ہے ۔ فی الحال صاف پانی کی بوتلس خرید رہے ہیں ۔ پودے نہ لگانے کی صورت میں مستقبل میں آکسیجن خریدنے کی نوبت آجائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد و سکندرآباد کے عوام کے لیے اس نمائش میں ملک بھر کے 120 اسٹالس قائم کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مصروف ترین زندگی میں اگر گھر کے احاطہ میں پودے لگائے جاتے ہیں تو گھر والوں کے ذہنی دباؤ میں کمی واقع ہوتی ہے ۔ وزیر فینانس نے کہا کہ شہر حیدرآباد میں کچن گارڈن اور روف گارڈن ایک ٹرینڈ بن کر ابھر رہا ہے ۔۔