قلعہ دومکنڈہ میں جشنِ اردو سمپوزیم، پروفیسرخواجہ الطاف حسین و یگرعلمی و ادبی شخصیات کے خطابات
نظام آباد: 15؍ فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اردو زبان و ادب کے فروغ اور تلنگانہ کی مشترکہ تہذیبی روایت کو اجاگر کرنے کے مقصد سے قلعہ دومکنڈہ میں‘‘جشنِ اردو’’اور سمپوزیم بعنوان‘‘تلنگانہ کا اردو ادب: جدید رجحانات’’نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ اس بامقصد علمی و ادبی تقریب کا اہتمام دومکنڈہ فورٹ و ولیج ڈیولپمنٹ ٹرسٹ کے منتظمین شوبھنا کمنینی اور انیل کمنینی کی جانب سے کیا گیاجس میں دومکنڈہ سمستھان کے راجہ راجیشور راؤ اصغر اور ان کے خانوادے کی ہمہ جہت علمی، ادبی، ثقافتی اور فلاحی خدمات کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر خواجہ الطاف حسین وائس چانسلر مہاتما گاندھی یونیورسٹی نلگنڈہ تھے ۔ جب کہ مہمانانِ اعزازی میں معروف تاریخ داں و کالم نگار سجاد شاہد، ماہرِ دکنیات اودیش رانی باوا اور ماہرِ آثار قدیمہ انورادھا ریڈی شامل تھیں۔ پروگرام کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد عبدالقوی، صدر شعبہ اردو تلنگانہ یونیورسٹی رہے۔ اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر خواجہ الطاف حسین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مادری زبان میں تعلیم بچوں کی فکری، ذہنی اور تخلیقی نشوونما کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں حاصل کرنے والے طلبہ نہ صرف تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت بھی متوازن طور پر پروان چڑھتی ہے۔ انہوں نے اردو اور تلگو کو تہذیبی شیرینی کی حامل زبانیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو اپنی تہذیب، زبان اور ادبی ورثے سے جوڑنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ڈاکٹر محمد عبدالقوی نے استقبالیہ کلمات میں سمپوزیم کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ دومکنڈہ فورٹ و ولیج ڈیولپمنٹ ٹرسٹ گزشتہ چند برسوں سے مسلسل علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے اردو اور علاقائی زبانوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام اہلِ علم، ادباء، شعراء، فنکاروں اور طلبہ کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں، جو علمی تبادلے اور تخلیقی اظہار کے لیے نہایت ضروری ہے۔سمپوزیم کے علمی سیشن میں بین الاقوامی شہرت یافتہ اسکالر میر علی حسین، پروفیسر ولیم پیٹرسن یونیورسٹی نے پلینری لکچر بعنوان‘‘حیدرآباد میں ادب میں ترقی پسند مصنفین کی تحریک کے اثرات’’پیش کیا، اس کے بعد ادبی اجلاس میں متعدد اہم مقالے پیش کیے گئے۔ ڈاکٹر اودیش رانی باوا نے‘‘تلنگانہ میں دکنی ادب بیسویں صدی میں’’، ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے‘‘تلنگانہ میں اردو طنز و مزاح بیسویں صدی میں’’، مسٹر ونئے ورما نے‘‘تلنگانہ میں اردو ڈراما بیسویں صدی میں’’، جبکہ پروفیسر آمنہ تحسین نے‘‘تلنگانہ کا اردو نثری ادب بیسویں صدی میں’’کے عنوان سے تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ بعد ازاں منعقدہ مشاعرے میں ڈاکٹر واحد نظام آبادی، علیم شاکر بانسواڈہ، معین راہی بودھن، امجد سلیم امجد کریم نگر، راحیل کریم نگری، ماہر نرملی، محسن بن محمد نرملی اور یاسر مخدوم رفاعی نظام ساگر، سید برہان الدین اور جاوید نے اپنا کلام پیش کر کے سامعین سے بھرپور داد وصول کی۔ اس مشاعرہ میں ڈگری کالج کے طلبہ و طالبات کو بھی اپنی ادبی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا گیا، جہاں انہوں نے مختلف شعراء کی نظموں اور غزلوں کو ترنم اور تحت اللفظ میں پیش کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔ بعد ازاں معروف گلوکارہ محترمہ پروا گورو نے اپنی پر ترنم آواز میں منتخبہ شعراء کا کلام پیش کرتے ہوئے محفل کو مزید دلنشیں بنا دیا۔ اور سامعین کو محظوظ کیا۔ اختتامی مرحلے میں مقالہ نگاروں، شعراء، فنکاروں اور طلبہ کی شال پوشی اور یادگاری تحائف کے ذریعے حوصلہ افزائی کی گئی۔ پروگرام کا اختتام دومکنڈہ سمستھان کے منیجر بابجی اور ڈاکٹر محمد عبدالقوی کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔ اس موقع پر اہلِ علم، دانشوروں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مقررین اس سمپوزیم کو اردو زبان و ادب کے فروغ کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔