مارکٹ میں عمدہ قسم کے چاول کی قیمت میں اضافہ

   


حیدرآباد :۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران عمدہ قسم کے چاول کی قیمت میں فی کنٹل 300 روپئے تا 500 روپئے کا اضافہ ہوا ہے ۔ شدید بارش کی وجہ پیداوار میں کمی اور دوسری ریاستوں کی مارکٹس میں چاول پہنچانے کی وجہ قیمتوں میں یہ اضافہ ہوا ہے ۔ بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ عمدہ قسم کے چاول کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا اندیشہ ہے ۔ خریف میں 53 لاکھ ایکڑ کے منجملہ 39.66 لاکھ ایکڑس میں عمدہ قسم کی کاشت کی گئی ۔ اس قسم کے چاول کو حاصل کرنے کے حکومت کے 50 لاکھ ٹن کے نشانہ کے مقابل حکومت صرف 19.55 لاکھ ٹن ہی کا حصول کرپائی ہے ۔ شدید بارش کی وجہ فصلوں کو نقصان ہوا جس کی وجہ پیداوار گھٹ گئی ۔ عام طور پر فی ایکڑ 25 تا 30 کنٹل کے مقابل اس مرتبہ 10 تا 15 کنٹل کی فصل ہوئی ہے ۔ جس کے نتیجہ میں مارکٹ میں عمدہ قسم کے چاول آنے کی مقدار کم ہوگئی ۔ بعض مقامات پر ایم ایس پی نہ ہونے پر کسانوں نے ان کے پاس موجود چاول کے اسٹاکس کو 3200 اور 4000 روپئے فی کنٹل کے درمیان فروخت کئے جس کے بعد بی پی ٹی کی قیمت جو 3250 روپئے فی کنٹل تھی 3500 روپئے ہوگئی ۔ ایچ ایم ٹی چاول 3300 اور 3700 روپئے کے درمیان فروخت کیا جارہا ہے ۔ اسی طرح جئے سری رام ورائٹی کو 3850 اور 4100 روپئے فی کنٹل کے درمیان فروخت کیا گیا ۔ تلنگانہ سونا کی قیمت میں 3450 اور 3800 روپئے تک اضافہ ہوا جس کا انحصار ورائٹی پر ہے ۔ دوسری ریاستوں کے ٹریڈرس نے تلنگانہ سے عمدہ قسم کے چاول کے اسٹاکس کو حاصل کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے ۔ اس کی وجہ سے بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ کرناٹک ، آندھرا پردیش اور مہاراشٹرا میں فصل ناکامی کی وجہ تلنگانہ سے عمدہ قسم کے چاول کے اسٹاکس حاصل کئے گئے ہیں ۔ غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق عمدہ قسم کا 20 لاکھ ٹن چاول دوسری ریاستوں میں پہنچایا گیا جس کے نتیجہ میں ریاست میں عمدہ قسم کے چاول کی قلت ہوگئی ۔ قیمتوں میں ستمبر تک اضافہ ہوگا ۔ قیمتوں میں ربیع کی فصل مارکٹ میں آنے کے بعد ہی کمی ہوگی ۔ اس کے علاوہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے بھی عمدہ قسم کے چاول کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔۔