ماریشس کو اُسکے جزائر واپس ملنے پر سوالیہ نشان

   

لندن؍ پورٹ بلیئر۔ 24 جنوری (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم جزیرہ نما ’چاگوس آئی لینڈز‘ سے دستبرادی کو برطانیہ کی بڑی حماقت قرار دیے جانے کے اثرات سامنے آنے لگے۔ برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے چاگوس آئی لینڈز ماریشس کے حوالے کرنے کی ڈیل روک دی۔ لیبر حکومت دارالامرا میں اس معاملے کو التوا میں ڈالتے ہوئے بحث سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ اگر ڈیل ختم کی گئی تو سرکیئر اسٹارمر کا یہ اپنے دور میں پندرہواں یوٹرن ہوگا۔ جزائرنما چاگوس آئی لینڈز بحرہند کے وسط میں ہیں اور یہ ماریشس سے تقریباً 16 سو کلو میٹر شمال مشرق میں واقع ہیں۔ ماریشس انہیں اپنا حصہ تصور کرتا ہے۔ پیرس معاہدہ کے تحت برطانیہ نے 1814 میں ماریشس سمیت ان جزائر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ 1965 میں سردجنگ کے دوران امریکہ اور برطانیہ کے درمیان معاہدہ کے تحت ماریشس سے چاگوس آئی لینڈز کو علیحدہ کردیا گیا تھا۔ ان جزائر پر قبضہ کرکے انہیں برٹش انڈین اوشن خطہ کا نام دیدیا گیا تھا جبکہ علاقے کی بڑی آبادی کو رفتہ رفتہ نکال کر ماریشس میں بسا دیا گیا تھا۔ گوکہ ماریشس نے 1968 میں برطانیہ سے آزادی لے لی تھی۔ اس کے باوجود برطانیہ چاگوس آئی لینڈز سے دستبردار نہیں ہوا تھا۔ ساتھ ہی 1971 میں امریکہ اور برطانیہ نے ان جزائر کے علاقے ڈیگوگارشیا میں سوویت یونین کے خلاف فوجی اڈہ بنایا تھا، جو بعد میں عراق پر حملوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔