کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر حکومت کے رہنمایانہ ہدایات پر سختی سے عمل
حیدرآباد۔ نماز جمعہ کے موقع پر دونوں شہروں کی کئی مساجد میں بغیر ماسک کے داخل ہونے والوں کو مساجد کے انتظامیہ کی جانب سے روک دیا گیا اور ان سے خواہش کی گئی کہ وہ نماز کے لئے مساجد پہنچنے سے قبل ماسک کے استعمال کو لازمی کریں تاکہ مصلیوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جاسکے۔شہر کی گئی مساجد میں کورونا وائرس کے سلسلہ میں جاری کردہ رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے انتظامی کمیٹیوں کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں اور آج کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر جاری کردہ ہدایات کے مطابق مساجد کے ذمہ داروں نے ماسک کے بغیر مسجد پہنچنے والوں کو داخل ہونے سے روک دیا اور کہا کہ ماسک کے لزوم کی پابندی کی صورت میں ہی نہیں مساجد میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی اور جن لوگوں کے پاس ماسک موجود نہیں تھے انہیں منہ اور ناک کو ڈھاکنے کے لئے رومال یا دستی کے استعمال کی تلقین کرتے دیکھا گیا۔شہر کی بعض مساجد کے باہر جمعہ کے موقع پر مصلیوں میں مفت ماسک تقسیم کرتے ہوئے انہیں ماسک کے استعمال کے لزوم کی پابندی کرنے کی اپیل کی گئی اور کہا گیا کہ ماسک کے استعمال کے ذریعہ ہی کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔نئے شہر کی بعض مساجد میں نماز جمعہ کے موقع پر مصلیوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ماسک کے لزوم کو اختیار کرنے کے علاوہ مساجد میں فرض نماز کی ادائیگی کے بعد گھر چلے جائیں اور سنتوں اور نوافل کی ادائیگی گھروں میں ادا کریں ۔علاوہ ازیں بیشتر مساجد میں بچوں کے علاوہ ضعیف العمر مصلیوں اور ایسے مصلیوں کو جو کھانسی ‘ نزلہ ‘ بخار یا کسی اور علامت کا شکار ہیں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ گھروں میں ہی نماز کا اہتمام کریں ۔مساجد میں کورونا وائرس کے اصولوں کی پابندی کے سلسلہ میں ائمہ و خطباء نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ملک اور ریاست تلنگانہ میں کورونا وائرس جس رفتار سے پھیل رہا ہے اسے روکنے کے لئے اقدام کرنا ہر کسی کی ذمہ داری ہے۔