ماضی میں مذہب، ذات اور فرقہ واریت کیخلاف آواز اٹھانے والے

   


ماؤسٹ کیا اب بے روزگاری، مہنگائی اور فسطائیت پر اُٹھ کھڑے ہونگے؟
مظلوم عوام انصاف رسانی کے منتظر، ماؤسٹ دوبارہ سرگرمیوں کو بڑھانے کوشاں، تحقیقاتی ایجنسیوں کی گہری نظر
حیدرآباد 4 ستمبر (سیاست نیوز) ماؤسٹ (نکسلائیٹ) تحریک سے واقف ظلم و زیادتی کا شکار عوام کیا اب اس تحریک کی طرف اُمید لگائے بیٹھے ہیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے میں مرکزی ایجنسیاں بھی جٹ گئی ہیں۔ چونکہ نکسلائیٹ سے مشہور ماؤسٹ تحریک کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ عوام کے حق میں کام کرتی ہیں۔ ریاست میں دوبارہ سرخرو ہونے کی کوششوں میں مصروف ماؤسٹ اپنے سابقہ کیڈر پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تلنگانہ کے اکثر و بیشتر اضلاع میں صدی کے آغاز تک بھی مضبوط کیڈر پایا جاتا تھا اور ان کے ہمدردوں کی کافی تعداد بھی تنظیم کے کمزور پڑجانے کے بعد یا تو خاموش ہوگئے یا پھر روپوشی اختیار کرلی تھی۔ جگہ جگہ گاؤں گاؤں پولیس مخبروں کے نیٹ ورک اور ان کی سرگرمیوں سے تنظیمی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئیں۔ گاؤں دیہاتوں ٹاؤن اور قصبوں میں ہونے والے ظلم و زیادتیوں اور حق تلفی کے واقعات کو ماؤسٹ قیادت تک پہونچانے کے لئے ہر گاؤں دیہات میں ماؤسٹوں کے ہمدرد جنھیں کورئر کہا جاتا ہے موجود تھے جو موقع کے لحاظ سے ماؤسٹوں تک اطلاعات فراہم کرتے تھے اور عوام کی مشکلات کا سدباب بھی ہوا کرتا تھا۔ مذہب طبقہ ذات و فرقہ سے عاری اس ماؤسٹ تنظیم کو عوامی مقبولیت اور ہمدردی کی اہم وجہ بھی یہی مانی جاتی ہے کہ ماؤسٹ انصاف کی بنیاد پر کام کرتے ہیں بلکہ طبقہ، ذات اور فرقہ کا فرق نہیں کرتے جیسا کہ سابق میں اس کی کئی ایک مثالیں ملتی ہیں۔ ریاست میں 1998 ء کے دہے میں پیش آئے واقعات میں جہاں مسلمانوں کا دائرہ حیات تنگ کرنے کی کوشش کی گئی تھیں اُس وقت ماؤسٹوں نے جو اس وقت نکسلائیٹ کہلاتے تھے، منہ توڑ جواب دیا تھا۔ چاہے وہ محبوب نگر میں کارسیوکوں کو انجام تک پہونچانا ہو یا پھر ضلع میدک میں ایک بول چال سے محروم قریشی نوجوان کو زندہ جلانے کا واقعہ ہو یا پھر نلگنڈہ ضلع میں ذبیحہ پر پابندی کے لئے مسلم برادری کو ہراساں کرنے کے واقعات ہوں اس طرح کے کئی اور بے شمار واقعات پائے جاتے ہیں۔ اب جبکہ سماج میں ہر طرف بے روزگاری، بے چینی، مہنگائی اور فسطائیت اپنے عروج پر پہونچ چکے ہیں ان حالات میں ظلم و ستم کا شکار عوام کی ہمدردی حاصل کرنا ماؤسٹوں کے لئے آسان ہوسکتا ہے۔ ان پہلوؤں پر بھی تحقیقاتی ایجنسیاں غور کررہی ہیں۔ زمینداروں کے ظلم و جبر اور زیادتی کا شکار، کچلے ہوئے پچھڑے ہوئے طبقات تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے انصاف کا واحد راستہ ماؤسٹوں کا ساتھ ہی تصور کرتے تھے۔ کیا اب بھی کچھ ایسے ہی حالات پیدا ہورہے ہیں، کیا جنگلات پر آدیواسیوں کے حقوق قدرتی وسائل پر ان کا حق نہیں ہے جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کردیا جارہا ہے۔ سرکاری املاک اور اداروں کو خانگی ارب پتی افراد کو سونپا جارہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے حالات سے ماؤسٹ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور انھیں ان حالات سے مقبولیت اور تقویت حاصل ہوگی۔ بائیں بازو کی ذہنیت پرتشدد نظریات کی حامل ماؤسٹ تنظیم کو ماہرین کے مطابق ملک کے موجودہ حالات اور سرکاری پالیسیاں سازگار ماحول فراہم کرسکتی ہیں اور ایسے افراد اس جانب غور کرسکتے ہیں جنھیں سرکاری سطح پر انصاف حاصل نہیں ہوتا یا پھر عملاً سرکاری مشنری اور پالیسیوں کے ذریعہ ان کی حق تلفی ہورہی ہے۔ حالیہ دنوں ماؤسٹوں نے اپنے مخالفین کے لئے سخت پیغام دیتے ہوئے بھداری ضلع میں پولیس مخبر کے شبہ کی بنیاد پر ایک نائب سرپنچ رامو کا قتل کردیا اور راما گنڈم کے رکن اسمبلی چندر اور ان کے حامیوں کی مبینہ دھوکہ دہی کو منظر عام پر لایا جس میں بے روزگار نوجوانوں سے روزگار کے نام پر تقریباً 790 افراد کو دھوکہ دیتے ہوئے 45 کروڑ روپئے ہڑپ لئے گئے۔ ان واقعات کے بعد پولیس کی جانب سے سخت چوکسی اختیار کی جارہی ہے اور جنگلات میں کومبنگ بھی بڑھادی گئی ہے۔ ع