ماضی ۔ حال بتانے والے جعلساز مردہ شخص کی تصویر سے آشکار

   

حیدرآباد کے ملے پلی میں غازی آباد کا خود ساختہ عامل گرفتار
حیدرآباد۔/27 اگسٹ، ( سیاست نیوز) ہم چیالنج نہیں کرتے سوائے موت کے ہر مرض و مسئلہ کا علاج کرتے ہیں، کامیاب نتائج ہی ہماری پہچان ہے، ہم سے رابطہ رکھو تو مسائل حل ہوجائیں گے۔ اس طرح کے دعوے کرنے والے ایک جوڑے کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ دوسروں کے مسائل اور ان کی زندگیوں میں خوشیاں بھرنے ماضی حال مستقبل کے متعلق گمراہ کرنے والے نہ جانے ایسے کتنے ہی خود ساختہ عامل سماج میں موجود ہیں۔ ایسے شہری جو آسانی سے ان کی جعلسازی کا شکار ہوکر اس حد تک ان پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں کہ ان کا ایمان بھی خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔ ایسے شہریوں کو یہ بات جان کر حیرت ہوگی کہ یہ جوڑا کس طرح ایک ٹی وی چینل کی تحقیق میں ہاتھ لگا۔ ٹاسک فورس پولیس کی مدد سے ایک خفیہ آپریشن میں اس خود ساختہ عامل جوڑے کو حراست میں لیا گیا۔ ایک مردہ شخص کی تصویر سے دوسروں کو بے وقوف بنانے والے شخص کی حقیقت کو آشکار کیا گیا جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہوئے عوام کو لوٹ رہا تھا۔ ملازمت کے حصول میں دشواری، شادی کے رشتہ طئے ہونے میں دشواری ، بیرون ملک جانے کیلئے مسائل، جائیداد، فلم انڈسٹری میں مواقع، بھوت پریت سے چھٹکارا، بھانا متی، کالا جادو، عاشقی کے مسائل، لڑکا یا لڑکی کو قابو میں کرنا ایسے ہر مسئلہ کو حل کیا جائے گا۔ اس طرح کے دعوؤں پر مبنی اشتہارات اور ہینڈ پمفلٹ اور دیوار کے پوسٹرس کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے کی تیاری جاری تھی۔ ایک تلگو نیوز چینل نے ایک اشتہار دیکھا اور اس کے ذریعہ ایک منصوبہ تیار کرتے ہوئے پہلے اپنی خاتون نمائندہ کو گراہک کی شکل میں اس خود ساختہ عامل سے رجوع کیا۔ اس لڑکی نے پہلے فون پر بات کی اور ایک شخص کو قابو میں کرنے کی درخواست کی۔ اس ٹولی کے ارکان نے لڑکی کو دفتر آنے کا مشورہ دیا ۔ دوبارہ فون کرنے پر 10 ہزار روپئے لے کر تصویر لانے کا مشورہ دیا۔ خاتون نمائندہ ایک مردہ شخص کی تصویر کے ساتھ پہنچی جس کے بعد اس خاتون کے ہاتھ میں نمک تھمادیا گیا اور پھر کچھ منتر پڑھنے کا مشورہ دیا جس کے بعد اس چینل نے ٹاسک فورس کے ساتھ ملے پلی میں واقع اس خود ساختہ عامل کے مکان پر دھاوا کیا اور ایک خاتون اور اس کے ساتھی کو حراست میں لے لیا اور تحقیقات جاری ہیں۔ ان کا تعلق ریاست اتر پردیش کے غازی آباد سے بتایا گیا۔ A
تاہم مزید اڈوں کی نشاندہی اور ان کے اس کاروبار کے تعلق سے تحقیقات جاری ہیں۔ ملے پلی جیسے علاقہ میں ان کی سرگرمیاں یقینا چونکا دینے والی ہیں لیکن شہر میں ایسے کتنے ہی خود ساختہ بابا عامل ہوں گے جو مذہبی لبادہ میں ایسی حرکتیں کررہے ہیں ۔ توہم پرستی کی اس گھناؤنی سازش کا شکار ہونے سے سماج بالخصوص قوم و ملت کو بچانا اور ان کے ایمان کی حفاظت کی تلقین کرنا ہر باشعور ایمان والے کی ذمہ داری ہے۔A