کانگریس کو 10 فیصد ووٹ کا فائدہ، معلق اسمبلی کے دعوؤں پردونوں پارٹیوں کا اختلاف
حیدرآباد۔/10اکٹوبر، ( سیاست نیوز ) الیکشن کمیشن کی جانب سے تلنگانہ کے بشمول 5 ریاستوں کے انتخابی شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی اہم سیاسی پارٹیوں نے اوپینین پول پر توجہ مرکوز کردی ہے تاکہ انتخابی حکمت عملی کا تعین کیا جاسکے۔ شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی قومی نیوز ایجنسی اے بی پی اور سی ووٹر کے ماقبل رائے دہی اوپینین پول نے بی آر ایس اور کانگریس کو چوکس کردیا ہے۔ اوپینین پول میں کانگریس کے واحد بڑی پارٹی کے طور پر اُبھرنے کی پیش قیاسی کی گئی جبکہ بی آر ایس دوسرے نمبر پر رہے گی۔ اوپنین پول نے بی جے پی کو انتہائی کم نشستیں ملنے کے امکانات ظاہر کئے ہیں۔ تلنگانہ کے اہم شہروں میں تقریباً 12 ہزار رائے دہندوں کی رائے حاصل کرتے ہوئے اوپنین پول تیار کیا گیا۔ اوپینین پول کے مطابق کانگریس کو 48 تا 60 نشستیں حاصل ہوں گی اور گذشتہ انتخابات کے مقابلہ 10.5 فیصد ووٹ کا اضافہ ہوگا۔ بی آر ایس کیلئے مخالف حکومت رجحان کے نتیجہ میں اسے 43 تا 55 نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی ہے جبکہ بی آر ایس کے ووٹ فیصد میں گذشتہ انتخابات کے مقابلہ 9.4 فیصد کی کمی واقع ہوگی۔ مخالف حکومت لہر کا راست طور پر فائدہ کانگریس کو ہوگا۔ بی جے پی کو 5 تا 11 جبکہ دیگر پارٹیوں کو بھی 5 تا 11 نشستوں کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ 2018 اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کو 46.9 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے جبکہ مجوزہ چناؤ میں اس کا ووٹ فیصد گھٹ کر 37.5 ہوسکتا ہے۔ کانگریس کو گذشتہ چناؤ میں 28.3 ووٹ حاصل ہوئے تھے اور اس مرتبہ 38.8 فیصد ووٹ کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ بی جے پی کا ووٹ فیصد بھی گذشتہ 7 فیصد کے مقابلہ بڑھ کر 16.3 فیصد ہوسکتا ہے۔ ماقبل انتخابات اوپینین پول نے معلق اسمبلی کی پیش قیاسی کی ہے تاہم کانگریس پارٹی نے اوپینین پول کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ مختلف غیر جانبدار اداروں نے 70 تا 80 نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کی ہے اور تلنگانہ میں کانگریس کو واضح اکثریت حاصل ہوگی۔ قائدین کا کہنا ہے کہ بی آر ایس کے اشارہ پر بعض ادارے معلق اسمبلی کی پیش قیاسی کے ذریعہ رائے دہندوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کانگریس قائدین کا ماننا ہے کہ تلنگانہ میں مخالف حکومت لہر میں روز افزوں اضافہ ہوا ہے اور معلق اسمبلی کے نام پر ایسے رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جارہی ہے جنہوں نے ابھی تک کسی کی تائید یا مخالفت کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اسی دوران بی آر ایس اور کانگریس کی جانب سے ماقبل چناؤ اوپینین پول میں کوئی تبدیلی نہیں پائی گئی۔ کانگریس کے سروے میں 70 سے زائد نشستوں کے ذریعہ واضح اکثریت کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ بی آر ایس کے سروے میں ووٹ فیصد میں کمی اور نشستوں کی تعداد میں معمولی کمی کی پیش قیاسی کی گئی۔ الغرض سروے کرنے والے ادارے اپنی پارٹیوں کو مطمئن کرنے میں مصروف ہیں۔