ڈبلیو ایچ او عہدیدار کونئی قسم کی کورونا ویکسین پر فکرمندی، جاریہ سال وباء پر قابو پالیا جائے گا
کوپن ہیگن : اب جبکہ دنیا بھر کے ممالک میں کورونا سے نمٹنے کیلئے نئی نئی ویکسین سامنے آرہی ہے اور ہر ایک یہ دعویٰ کررہا ہیکہ اس کی ویکسین مؤثر ہے اور انسانی استعمال کیلئے مناسب ہے وہیں ٹیکہ اندازی کیلئے متاثرہ ممالک کے عوام تیار نظر نہیں آتے۔ دوسری طرف عالمی صحت تنظیم کی یوروپی شاخ نے بھی جمعہ کے روز تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یوروپ اور فارماگروپس سے خواہش کی ہیکہ وہ کوویڈ ٹیکہ اندازی کے عمل میں تیزی پیدا کریں اور ساتھ ہی وائرس کے لئے ویرئینٹس کیلئے ٹیکوں کے مؤثر ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ڈبلیو ایچ او کے یوروپ ڈائرکٹر ہنس کلوج نے میڈیا کوایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نئے قسم کا کورونا مسائل پیدا کرسکتا ہے اور اس کیلئے ہم سب کو زبردست تیاری کرنی ہوگی جس کے لئے ممالک کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا ہوگا یعنی ایسے ممالک جو اب تک اس وباء سے محفوظ ہیں انہیں بھی ٹیکہ اندازی کی مہم میں شامل کرنا ہوگا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ یوروپی یونین میں اب تک آبادی کے صرف 2.5 فیصد لوگوں کو ہی ٹیکہ اندازی کے پہلے مرحلہ میں ٹیکے دیئے گئے ہیں حالانکہ مختلف لیباریٹریز کی جانب سے ویکسین کی زائد ڈیلوری کی اطلاعات نے ٹیکہ اندازی کی مہم میں بھی مزید تیزی پیدا ہونے کی امید جگائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فارما کمپنیاں ٹیکہ سازی کیلئے ایک دوسرے کی مسابقت کررہی ہیں جوکہ ایک صحتمند مسابقت ہونی چاہئے اور یہ ایک اچھی علامت ہے لیکن وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ تمام کمپنیاں اپنی پیداوار میں اضافہ کریں تاکہ دنیا کی ایک بڑی آبادی کا احاطہ کیا جاسکے۔ ویکسین کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی ٹیکہ اندازی کیلئے بھی اتنی ہی مؤثر کارروائی کرنی ہوگی اور اس بات کو یقینی بنایا جاسکے گا کہ ویکسین ہر ایک کو پہنچ رہی ہے۔ جب مسٹر کلوج سے یہ پوچھا گیا کہ گذشتہ سال ڈسمبر سے کوویڈ کیلئے دستیاب ویکسین نئے قسم کے کورونا کیلئے بھی اتنے ہی مؤثر ہیں جتنے کہ کوویڈ کیلئے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اس سوال کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک بڑا سوال ہے اور اس کیلئے وہ خود بھی فکرمند ہیں۔ یہ بات ہمارے لئے واقعی تشویش کی ہیکہ انسان پر کوروناوائرس ہنوز حاوی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ سال ڈسمبر کے مقابلہ میں کوویڈ کے خلاف ہماری لڑائی میں مزید شدت پیدا ہوگئی ہے۔ کلوج کے مطابق انہوں نے گذشتہ سال ڈسمبر تک کورونا کو جتنی تن آسانی سے لیا وہ دراصل ویسا نہیں تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاریہ سال ہم اس پر مکمل طور پر قابو پالیں گے۔ انہوں نے ڈبلیو ایچ او کی اس اپیل کا بھی اعادہ کیا کہ دولتمند ممالک کو کوویڈ ویکسین کی فراہمی کیلئے غریب ممالک پر زائد توجہ دینی چاہئے۔ یہ امیر ممالک کا فرض ہیکہ وہ اپنی عوام کو ٹیکہ اندازی کے بعد غریب ممالک کے عوام کے بارے میں بھی سوچیں۔