مالیگاؤں بم دھماکہ: فیصلہ، جرم لیکن … سزا نہیں

   

رام پنیانی
مالیگاؤں بم دھماکہ 2008 کا فیصلہ آیا اور ا یک طویل عرصہ بعد آیا۔ اس فیصلہ کا برسوں سے انتظار کیا جارہا تھا ۔ ممبئی کی ایک خصوصی عدالت (قومی تحقیقاتی ایجنسی کی ایک خصوصی عدالت) نے یہ فیصلہ صادر کیا جس میں اس مقدمہ کے تمام سات ملزمین بشمول بی جے پی کی سابق رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور کرنل پروہت کو بری کردیا گیا ۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ یقیناً بم دھماکہ کے متاثرین کیلئے ایک دھکہ ثابت ہوا، ان میں پھر سے مایوسی اور غم کی لہر پیدا ہوگئی ، اس کے برعکس ہندوتوا کیمپوں میں خوشیاں منائی گئیں۔ ایسے بے شمار لوگ تھے جنہیں ایسے ہی فیصلہ کی توقع تھی ۔ ان کا اندازہ تھا کہ حقیقی مجرمین کو چھوڑ دیا جائے گا اور ویسے بھی اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ گزشتہ 17 برسوں کے دوران تحقیقاتی ایجنسیوں نے تحقیقات کا رخ موڑ کر رکھ دیا۔ خاص طور پر سال 2014 کے بعد تو تحقیقاتی ایجنسیوں کی تحقیقات اور اقدامات پر کئی گوشوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ جہاں تک مالیگاؤں بم دھماکہ کا سوال ہے ، یہ دھماکہ ایک ایسے گروپ نے کیا جس نے اس کیلئے ایک موٹر سیکل استعمال کی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ بم میں جو آر ڈی ایکس استعمال کیا گیا وہ اس وقت دھماکہ سے پھٹ پرا جب وہاں مسلمان کثیر تعداد میں جمع ہوئے ۔ دھماکہ کے نتیجہ میں ہی 6 افراد شہید ہوئے جبکہ سو سے زائد زخمی ہوئے ۔ یہ واقعہ ماہ رمضان المبارک میں پیش آیا ۔ مالیگاؤں بم دھماکہ کے ضمن میں جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا ، ان میں سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر ، برسر خدمت فوجی عہدیدار لیفٹننٹ کرنل پرساد پروہت (وہ اُس وقت فوج میں خدمات انجام دے رہا تھا( ، ریٹائرڈ میجر رمیش اپادھیائے شامل ہیں ۔ دھماکہ کے فوری بعد اس کیس کی تحقیقات مہاراشٹرا اے ٹی ایس کے تفویض کی گئیں ، بعد میں سال 2011 کے دوران نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے اس کیس کی تحقیقات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ دھمااکہ میں ملزمین کے ملوث ہونے سے متعلق بہت مضبوط شک پایا جاتا ہے لیکن سرکاری وکیل (استغاثہ) اسے دلائل کے ساتھ ثابت کرنے میں ناکام رہا اور تمام ملزمین کو بری کردیا گیا ۔ جیسے ہی فیصلہ منظر عام پر آیا ہندو دائیں بازو کی تنظیموں اور اس کے رہنماؤں نے فیصلہ کی زبردست ستائش کی اور ان لوگوں نے کانگریس پر الزام عائد کیا کہ اس نے ملک میں زعفرانی دہشت گردی کا ہوا کھڑا کیا جس کے نتیجہ میں رائٹ ونگ کے کئی لوگوں پر دہشت گردی کے الزامات عائد کئے گئے ۔ ان کی گرفتاریاں عمل میں آئیں اور پھر عدالتوں نے انہیں بری کردیا۔ ویسے بھی اس کیس کے بارے میں غور کرتے ہیں تو تحقیقاتی عمل کے کچھ نکات کو دہن نشین رکھنا ضروری ہے اور خاص طور پر جب اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کی جائے ۔ مہاراشٹرا اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے جنہوں نے ابتداء میں اس کیس کی تحقیقات کی سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی موٹر سیکل کے ذریعہ شروعات کی جو ماضی میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی سرگرم کارکن رہ چکی ، کرکرے نے اس کیس کی پوری جانفشانی سے تحقیقات کی اور بالآخر وہ ملزمین تک پہنچ گئے اور ان کی گرفتاریاں عمل میں لائی ۔ ان میں پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور کرنل پروہت کلیدی ملزمین تھے ۔ اس علاقہ (مہاراشٹرا کے علاقہ) میں جو دھماکے ہوئے ان میں ابتدائی دھماکہ اپریل 2006 کو ناندیڑ میں پیش آیا اور وہ بھی راج کندوار کے گھر میں ایک بم زور دار دھماکہ کے ساتھ پھٹ پڑا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اس گھر میں بم بنائے جارہے تھے اور بم بنانے والوں کی کچھ غلطیوں سے دھماکہ ہوا۔ ڈاکٹر سریش کھیر نار سابق صدر راشٹرا سیوا دل کی زیر قیادت شہریوں کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے اس واقعہ کی تحقیقات کی جس پر یہ انکشاف ہوا کہ بم دھماکہ میں دو نوجوان 27 سالہ ہمانشو پانسے اور 26 سالہ نریش راج کندوار مقام واقعہ پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ تین نوجوان 24 سالہ یوگیش دیشپانڈے ، ماروتی واگھ (23 سالہ) اور 25 سالہ توپیتے وار بری طرح زخمی ہوئے جس گھر میں یہ لوگ بم تیار کر رہے تھے ، اس پر بجرنگ دل کا پرچم لہرا رہا تھا ۔ پولیس کو اس مقام سے نقلی داڑھی ، مونچھ اور پاجامہ کرتا وغیرہ دستیاب ہوئے ۔ ایک طرف یہ خطرناک دھماکہ موضوع بحث بنا ہوا تھا تو دوسری طرف پربھنی ، پانویل اور جالنہ میں بھی دھماکوں کے واقعات پیش آئے 2008 مالیگاؤں دھماکہ کیس کی تحقیقات ہیمنت کرکرے غیر معمولی انداز میں کر رہے تھے اور تحقیقات کے بل بوتے پر وہ اور ان کی ٹیم ملزمین کو گرفتار کرتی جارہی تھی ۔ اس وقت بی جے پی کی حلیف جماعت شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے اپنے اخبار سامنا میں کچھ یوں لکھا ’’ہم کرکرے کی ہندو مخالف سرگرمی کیلئے اس پر تھوکتے ہیں جبکہ اس وقت کے قائد اپوزیشن لال کرشن اڈوانی نے پرزور انداز میں الزام عائد کیا تھا کہ ملزمین کو زد و کوب کیا جارہا ہے، اذیتیں دی جارہی ہیں۔ 26/11 ، 2008 ممبئی دہشت گرد حملہ میں ہیمنت کرکرے کو قتل کردیا گیا جس کے بعد اس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی ممبئی پہنچے اور کرکرے کی بیوہ کو ایک کروڑ روپئے کا چیک پیش کیا جسے اس خاتون نے بڑی ہی عاجزی کے ساتھ قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ جب کرکرے نے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کیا تب مودی نے کرکرے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ قومی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں اور کرکرے کو ان کے قتل کے بعد شہید کہا جارہا ہے چونکہ وہ مالیگاؤں بم دھماکہ کی تحقیقات کر رہے تھے اس لئے ہندوتوا کے مختلف گوشوں سے ان کی محالفت میں بیانات آرہے تھے ، نتیجہ میں وہ اپنے استاد جولیوربیرو سے رجوع ہوئے جس پر انہوں نے کرکرے کی بلا خوف و خطر شاندار کارکردگی کی ستائش کی اور پیشہ وارانہ انداز میں اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ آپ کو یہ جان کر افسوس ہوگا کہ کرکرے کی المناک موت کے بعد پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے اپنے حساب سے کہانی گھڑنی شروع کی۔ بی جے پی قائدین نے اس کی تعریف و ستائش میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور پریس کانفرنس کے دوران اسے گھیرے رہے ۔ پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے کرکرے جیسے ایک فرض شناس دیانتدار پولیس عہدیدار کو قوم دشمن قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ کرکرے دھرم کا دشمن ہے ۔ سادھوی پرگیہ سنگھ نے اس وقت یہ بھی کہا کہ آپ لوگ یقین نہیں کریں گے لیکن میں نے کر کرے کے بارے میں کہا تھا کہ تیرا سرواناش ہوگا (تو تباہ ہوجائے گا) پرگیہ نے یہ خیالات کرکرے کی شہادت کے سوا ماہ بعد ظاہر کئے ۔ دوسری طرف دیگر دہشت گردانہ واقعات (اجمیر، مکہ مسجد اور سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں) کے ضمن میں سوامی آسیمانند کو گرفتار کیا گیا ۔ اپنی گرفتاری کے بعد اس نے میٹرو پالیٹن مجسٹریٹ کے سامنے اقبال جرم کرلیا ۔ اس نے رضاکارانہ طور پر اعتراف جرم کیا اور اسے 18 ڈسمبر کو دہلی کی تیس ہزار کورٹ میں میٹرو پالیٹن مجسٹریٹ کے روبرو سی پی سی کے سیکشن 164 کے تحت ریکارڈ کروایا گیا لیکن بعد میں وہ اپنے اقبالی بیان سے منحرف ہوگیا۔