ممبئی: مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملے میں آج ایک اہم پیش رفت ہوئی جب قومی تفتیشی ایجنسی نے سرکاری گواہان کے بیانات درج کرنے کا اختتام کیے جانے کا فیصلہ کیا اور اس تعلق سے عدالت میں ایک عرضداشت بھی داخل کی جس پر عدالت نے کارروائی کرتے ہوئے گواہان کے بیانات کے اندراج مکمل کیئے جانے کا حکم جار ی کیا۔ این آئی اے نے بم دھماکہ متاثرین کے وکیل شاہد ندیم(جمعیۃ علماء مہاراشٹر ارشد مدنی) کی جانب سے مجسٹریٹ کو عدالت میں گواہی کے لیئے طلب کی جانے والی عرضداشت پر کوئی فیصلہ کیئے بغیر ہی آج عدالت میں گواہی مکمل کیئے جانے کا فیصلہ کیا یعنی این آئی اے مجسٹریٹ کو عدالت میں گواہی کے لیئے طلب کرنے پر راضی نہیں ہوئی۔آج خصوصی این آئی اے عدالت کے جج اے کے لاہوٹی کو خصوصی سرکاری وکیل اویناس رسال موجودہ تفتیشی افسر پردیپ بھالے راؤ نے بتایا کہ ایجنسی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب مزید گواہان کو عدالت میں گواہی کے لیئے طلب نہیں کریگی۔ جن گواہان کے تعلق سے عدالت سے سمن حاصل کیا گیا تھا ان تمام گواہان کی گواہیاں مکمل ہوچکی ہیں لہذا عدالت سرکاری گواہان کے بیانات مکمل ہونے کا حکم جاری کرسکتی ہے ۔اس معاملے میں کل 323سرکاری گواہان کی گواہی کا اندراج ہوا جس میں سے 37 گواہان اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوئے ۔ اس مقدمہ میں 3 دسمبر 2018 کو پہلے گواہ کی گواہی عمل میں آئی تھی جبکہ آخری گواہ کی گواہی 4 ستمبر 2023 کو عمل میں۔ خصوصی جج ونود پڈالکر گواہی کا اندراج شروع کیا تھا، اس درمیان وہ ریٹائرڈ ہوگئے جس کے بعد جج پی آر سٹرے نے گواہان کے بیانات کا اندراج کیا لیکن ان کے ٹرانسفر ہوجانے کے بعد خصوصی جج اے کے لاہوٹی نے چارج سنبھالا اوربرق رفتاری سے بقیہ گواہان کے بیانات کااندراج مکمل کیا۔