مالی بحران کے باعث میڈیکل کی طالبہ ترکاری فروخت کرنے پر مجبور

   

Ferty9 Clinic

بلند حوصلے ، عزم مصمم کے ساتھ آگے بڑھنے کا جذبہ دیگر کے لیے مثال
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : مالی بحران کے باعث میڈیکل تیسرے سال کی ایک 22 سالہ طالبہ اس کا کالج چھوڑ دینے کے دہانے پر ہے کیوں کہ اس نے اخراجات کی تکمیل کے لیے حیدرآباد میں ترکاری فروخت کرنے میں اس کی ماں کی مدد کرنا اور کام کرنا شروع کردیا ہے ۔ انوشا ، کریگستان کے ایک میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کے تیسرے سال میں تعلیم حاصل کررہی ہے ۔ اس کے خاندان کو درپیش مالی بحران کے باعث اس کی میڈیسن تعلیم کے لیے فیس ادا کرنے میں مشکل ہوگئی ہے ۔ انوشا نے کہا کہ ابتداً انٹر میڈیٹ امتحان کے بعد ایم ایم بی ایس کرنے کے لیے کسی میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کرنے میں اسے بہت دلچسپی تھی ۔ کئی میڈیکل کالجس میں اس کے لیے کوشش کرنے کے باوجود فیس اسٹرکچر کے باعث وہ کسی کالج میں نشست حاصل نہیں کرپائی تھی ۔ لیکن بعد میں اسے معلوم ہوا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے بیرون ملک حصول تعلیم کے لیے میرٹ اساس پر اسکالر شپس کے ساتھ طلبہ کی مدد کی جارہی ہے ۔ اس طالبہ نے کہا کہ چونکہ اسے کریگستان میں ایک میڈیکل اسکول میں داخلہ ملا تھا اس لیے اس نے اسکالر شپ کے لیے درخواست دی ۔ کالج میں داخلہ کے بعد اسے کالج ایڈمنسٹریشن کے ذریعہ اس بات کا علم ہوا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے اسکالر شپ فراہم نہیں کی گئی ۔ بلکہ اسے اس کے میرٹ کی اساس پر منظور کی گئی تھی ۔ انوشا نے مزید کہا کہ ایک سال مکمل کرنے کے بعد وہ حکومت تلنگانہ سے اسکالر شپ حاصل ہونے کی توقع کررہی تھی ۔ متعلقہ عہدیداروں نے اسے بتایا کہ ایم بی بی ایس پانچ سالہ کورس کے لیے اسکالر شپ کو حکومت نے منسوخ کردیا ہے ۔ حیدرآباد کی اس لڑکی نے کہا کہ سال اول میں اس کے تعلیمی مظاہرہ کو دیکھ کر کالج انتظامیہ نے فیس کی ادائیگی نہ کر پانے کے باوجود اسے سکنڈ ایر میں کلاسیس میں شرکت کرنے کی اجازت دی نیز پہلے اور دوسرے سال کے مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے جس میں اس نے مجموعی طور پر 95 فیصد نشانات حاصل کئے تھے کالج مینجمنٹ نے اسے تیسرے سال کے امتحانات میں شرکت کرنے کی اجازت دی ۔ اس نے کہا کہ وہ کالج ترک کرنے کے دہانے پر ہے اور مالی بحران کی وجہ تعلیمی سلسلہ کو منقطع کرنے کے دہانے پر ہے ۔ اس طالبہ نے کہا کہ وہ اب بھی حکومت سے اس کی تعلیم کے لیے مدد کرنے کی درخواست کررہی ہے ۔ انوشا کا بھائی ایک فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم کے لیے فوڈ ڈیلیوری ایگزیکٹیو کا کام کرتا ہے جس کے ذریعہ وہ اس کی کالج فیس ادا کرپاتا ہے ۔ انوشا کے والدین ایک اپارٹمنٹ میں واچ مین کا کام کرتے ہیں ۔ انوشا کی ماں سرلا نے کہا کہ مجھے اس بات پر بہت دکھ محسوس ہوتا ہے اور تکلیف ہوتی ہے کہ میری بیٹی محض ہمارے مالی مسائل کے باعث اس کا کالج چھوڑ دینے کے دہانے پر ہے ۔ اس نے حکومت سے اس کی بیٹی کی مدد کرنے کی اپیل کی تاکہ وہ اس کی تعلیم مکمل کرسکے ۔۔