بماکو/3 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مغربی افریقی ملک مالی کے ایک فوجی اڈے پر بڑے حملے کے نتیجے میں 53 فوجی مارے گئے ہیں۔ وزیر اطلاعات یحییٰ سنگارے نے کارروائی کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ ذرئع ابلاغ کے مطابق حملہ نائیجر کے قریب سرحدی علاقے میں موجود ایک فوجی اڈے پر کیا گیا۔ تاحال کسی تنظیم یا گروہ کی جانب سے حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی گئی۔ واضح رہے کہ 2012ء میں علاحدگی پسندوں کی طرف سے مالی کی فوج پر کئی حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد سے اس طرح کی کارروائیاں وقتاً فوقتاً جاری ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ہونے والی کارروائی میں ایک شہری بھی ہلاک ہوا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری فوجی اڈے پر پہنچی اور لاشوں و زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورت حال قابو میں آ چکی ہے اور دہشت گردی کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ مالی کی حکومت نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے جبکہ سیکورٹی فورسز نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مالی میں ’جی 5 ساحل فورس کے نام سے 5 ممالک کی افواج مسلح تنظیموں کے خلاف کارروائی کیلئے تعینات ہیں۔ ان ممالک میں برکینا فاسو، چاڈ، مالی، موریتانیا اور نائیجر شامل ہیں۔
