مانسون کی آمد میں تاخیر سے چیف منسٹر کے سی آر کی پریشانی میں اضافہ

   

بارش کے بارے میں بی آر ایس پُرامید، خشک سالی کے حالات کامیابی کی راہ میں رکاوٹ

حیدرآباد۔/18 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقتدار کی ہیٹ ٹرک کے منصوبہ کی راہ میں کئی چیالنجس کا سامنا کرنے والے چیف منسٹر کے سی آر کو مانسون کی آمد میں تاخیر نے فکر مند کردیا ہے۔ عام طور پر تلنگانہ میں مانسون کی آمد جون کے دوسرے ہفتہ میں ہوتی رہی ہے لیکن انتخابی سال مانسون کی آمد میں تاخیر نے ایک طرف کسانوں تو دوسری طرف حکومت کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ کسانوں کو فصلوں کے نقصانات کا اندیشہ ہے تو حکومت کو کسانوں کی ناراضگی سے انتخابات میں ووٹ سے محرومی کا خطرہ پریشان کئے ہوئے ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قریبی ساتھیوں کے ساتھ اس مسئلہ پر بات چیت کی اور محکمہ زراعت کے عہدیداروں کو صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مانسون کی آمد میں تاخیر اور موسم گرما کی شدت سے ریاست کے بعض علاقے خشک سالی اور پینے کے پانی کی قلت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ جانوروں کو چارے کی قلت بھی حکومت کیلئے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق میں بعض حکومتوں کو خشک سالی کی صورتحال نے ناکامی کا راستہ دکھایا تھا۔ کے سی آر کیلئے یہ پہلا موقع ہے جب عین الیکشن سے قبل ریاست میں گرما کی شدت نے زرعی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ 2014 میں برسر اقتدار آنے کے بعد سے تلنگانہ ہر سال بہتر بارش کے سبب زرعی شعبہ کی خوشحالی کا سبب بنتا رہا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ مانسون بھلے ہی تاخیر سے تلنگانہ میں قدم رکھے لیکن بارش معمول کے مطابق رہے گی جس کے نتیجہ میں آئندہ تین ماہ تک زرعی سرگرمیوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ محکمہ موسمیات سے تلنگانہ حکومت ربط میں ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ماہرین نے جولائی تا ستمبر بہتر بارش کی پیش قیاسی کی ہے۔ بی آر ایس کے قائدین بالخصوص ارکان اسمبلی کو مانسون کی آمد میں تاخیر کی صورت میں کسانوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور دیہی علاقوں کے دورہ کی صورت میں کسان اپنے مسائل پیش کرسکتے ہیں۔ قائدین کا کہنا ہے کہ خشک سالی کی صورتحال سے دیہی معیشت کمزور ہوگی اور کسانوں کو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب کبھی بھی ریاست میں خشک سالی کی صورتحال پیدا ہو برسراقتدار پارٹیوں کو کسانوں پر خصوصی توجہ دینی پڑتی ہے۔ اب جبکہ کے سی آر کانگریس اور بی جے پی سے سخت مقابلہ کا سامنا کررہے ہیں ایسے میں کسانوں کی معمولی ناراضگی بھی ووٹ فیصد میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2002 اور 2003 میں مرکز کی اٹل بہاری واجپائی حکومت اور متحدہ آندھرا پردیش میں چندرا بابو نائیڈو حکومت کو کسانوں کی ناراضگی کے سبب اقتدار سے محروم ہونا پڑا تھا۔ بی آر ایس قائدین کو یقین ہے کہ زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی کی سربراہی اور رعیتو بندھو اور رعیتو بیمہ جیسی اسکیمات پارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کریں گی۔ر