مانسون کے ساتھ ہی تلنگانہ میں وبائی امراض عروج پر

   

دو ماہ میں پانچ لاکھ وبائی بخار کے کیس، ڈینگو اور ملیریا سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر کا مشورہ
حیدرآباد۔8 ۔ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں عوام کورونا وباء کے خوف سے ابھی مکمل طور پر ابھر نہیں پائے کہ مانسون کے آغاز کے ساتھ ہی وبائی امراض نے کئی اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران ریاست میں پانچ لاکھ سے زائد وبائی بخار کے معاملات منظر عام پر آئے۔ اس کے علاوہ ڈینگو اور ملیریا کے کیسس میں اضافہ کے نتیجہ میں سرکاری اور خانگی دواخانوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جولائی میں دو لاکھ کیسس منظر عام پر آئے جبکہ اگست میں یہ تعداد بڑھ کر تین لاکھ ہوچکی ہے ۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے تمام ضلع کلکٹرس کو چوکسی کا مشورہ دیا ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں مچھر کش ادویات کے چھڑکاؤ کو جنگی خطوط پر انجام دینے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ مسلسل بارش اور سرد موسم کے نتیجہ میں مچھروں کی افز ائش میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں وائرل بخار کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے گریٹر حیدرآباد کے تقریباً ہر گھر میں وائرل فیول کی شکایت موصول ہوئی ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں طور پر وبائی امراض میں اضافہ تشویش کا باعث ہے ۔ محکمہ صحت کے حکام نے ستمبر کے اختتام تک چوکسی کا مشورہ دیا ہے ۔ وائرل بخار کو کورونا کی علامت تصور کرتے ہوئے کئی افراد کورونا ٹسٹ کروانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اگست 2019 ء میں سرکاری سطح پر ڈینگو کے 1026 کیسس منظر عام پر آئے تھے جبکہ 2020 ء میں ان کیسس میں کمی واقع ہوئی اور کورونا وباء کا آغاز ہوا۔ ڈینگو کے صرف 140 کیسس منظر عام پر آئے تھے ۔ 2021 ء میں ڈینگو بخار کے کیسس میں اضافہ درج کیا گیا۔ اگست میں 1720 کیسس منظر عام پر آئے اور صرف حیدرآباد میں کیسس کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری اور خانگی دواخانوں میں ڈینگو اور ملیریا کے کیسس میں اضافہ سے نمٹنے کے لئے ڈاکٹرس اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی اضافی تعداد کو تعینات کرنا پڑا۔ کورونا کی طرح وبائی امراض کے علاج کیلئے بھی کارپوریٹ دواخانوں میں بھاری رقومات وصول کرنے کی شکایات ملی ہیں۔ ڈینگواور ملیریا میں اکثر مریضوں میں خون کے پلیٹلیٹس میں کمی واقع ہوتی ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے ڈاکٹرس کو صحت مند افراد کے خون کے موجود پلیٹلیٹس منتقل کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین طب نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ بخار اور حلق میں درد کی صورت میں فوری طورپر ہاسپٹل سے رجوع ہوں کیونکہ یہ ڈینگو کی علامات میں شامل ہے۔ ایسے مریضوں کو 102 اور 103 ڈگری بخار درج کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹرس نے کہا کہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ وبائی بخار کا گھر میں علاج ممکن ہے ۔ R