اٹارنی جنرل آر وینکٹارمنی، چانسلر ممتاز علی، پروفیسر فیضان مصطفی اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔6 جولائی(سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی میں اسکول آف لاء کے موٹ کورٹ( تمثیلی عدالت) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف انڈیا شری آروینکٹارمنی نے کہاکہ قانون کی تعلیم کے حوالے سے ہندوستان دنیا بھر میں قائدانہ کردار ادا کرنے جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں قانونی تعلیم مستحکم خطوط پر دی جارہی ہے جبکہ دنیا بھر کے ماہرین قانون کی تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کی ناکامی کی بات کر رہے تھے۔ امریکہ اور یوروپ میں وہاں کے قانونی تعلیمی اداروں کی ناکامی پر بحث ہو رہی ہے۔ اور یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ ہندوستانی قانونی تعلیم کے اداروں میں 50 تا 60 فیصد طلبہ کی تعداد خواتین اور لڑکیوں پر مشتمل ہے۔ اس پس منظر میں ہندوستان قانونی تعلیم کے میدان میں عالمی سطح پر قائدانہ رول ادا کرنے کے لیے پوری طرح اہل ہے۔ اٹارنی جنرل آر وینکٹا رمنی نے امید ظاہر کی کہ اردو میں قانون کی تعلیم ہندوستان کی ثقافتی دولت میں اضافہ کا باعث بنے گی۔ اٹارنی جنرل آف انڈیا آر وینکٹا رمنی نے مانو لاء اسکول کے موٹ کورٹ (تمثیلی عدالت)کا افتتاح انجام دیا اور اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا شکریہ ادا کیا کہ یونیورسٹی نے مانو موٹ کورٹ کو ان کے نام سے معنون کیا ہے۔ تقریب کے آغاز میں وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے کہا کہ آج کا دن اردو یونیورسٹی کی تاریخ میں دو وجوہات کے سبب یاد رکھا جائے گا۔ اول مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں لاء اسکول کا آغاز اور دوم اٹارنی جنرل آف انڈیا کی لاء اسکول میں آمد ۔ مانو اسکول آف لاء کے ایڈجنکٹ پروفیسر فیضان مصطفی نے بھی مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو یونیورسٹی کو دستوری موقف اور تحفظ دیا جانا چاہیے اور اس کو ایک قومی اہمیت کے حامل ادارے کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ پروفیسر فیضان مصطفی نے اٹارنی جنرل آف انڈیا سے اپیل کی کہ وہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے لاء اسکول کے لیے ایک پراجیکٹ منظور کروائیں جس کے تحت تین نئے قوانین کا اردو ترجمہ ہوسکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ خود اس ترجمہ کے پراجیکٹ پر کام کرنے تیار ہیں۔چانسلراردو یونیورسٹی شری ممتاز علی نے پروگرام کی صدارت کی۔ تقریب کے اختتام پر پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار نے شکریہ ادا کیا ۔ پروفیسر تبریز احمد، ڈین لاء اسکول نے پروگرام کی کارروائی چلائی۔ ڈاکٹر محمد یوسف خان کی قرأت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔