’ ماویسٹ روابط ‘ پر عثمانیہ یونیورسٹی کا پی ایچ ڈی اسکالر گرفتار

   

حیدرآباد ۔ 6 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : رچہ کنڈہ پولیس کمشنریٹ کی ایل بی نگر پولیس نے اتوار کو عثمانیہ یونیورسٹی کے ایک پی ایچ ڈی اسکالر کو ممنوعہ تنظیم سی پی آئی ( ماویسٹ ) کے ساتھ ان کے مبینہ روابط اور لوگوں کو اس پارٹی میں شامل ہونے کے لیے اثر انداز ہونے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا ۔ پولیس عہدیداروں نے کل یہ بات بتائی ۔ گرفتار کیے گئے اس اسکالر کی شناخت 38 سالہ کے سرینواس گوڑ ، ساکن وارث گوڑہ سکندرآباد کے طور پر کی گئی ، وہ پداپلی ڈسٹرکٹ کا متوطن ہے اور تلنگانہ ودیارتھی سنگم
(TVS)
کا سابق صدر ہے ۔ اسے یو اے پی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کئے گئے ایک دو سالہ پرانے کیس کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا ۔ پولیس کے مطابق سرینواس گوڑ کے قبضہ میں مبینہ طور پر ماویسٹ لٹریچر تھا اور وہ اس ممنوعہ تنظیم میں شامل ہونے کے لیے لوگوں زیادہ تر نوجوانوں کو ترغیب بھی دے رہا تھا ۔ سرینواس گوڑ ماویسٹ پارٹی کی حمایت میں افراد سے رقم حاصل کرنے میں بھی ملوث تھا اور وہ اس ممنوعہ تنظیم کے قائدین کی ہدایات پر کام رہا ہے ۔ پولیس نے کہا کہ گوڑ ، سی پی آئی ( ماویسٹ ) پارٹی کے بہار ۔ جھارکھنڈ یونٹ کے سابق اسٹیٹ کمیٹی ممبرس این روی شرما اور اس کی بیوی انورادھا اور دیگر کے خلاف اس پارٹی کے ساتھ روابط پر 2019 میں بک کئے گئے کیس میں مشتبہ لوگوں میں شامل تھا ۔ پولیس نے ایل بی نگر پولیس اسٹیشن میں 2019 میں درج کئے گئے کیس میں اب تک 13 لوگوں کو گرفتار کیا ہے ۔۔