ماہی گیروں اور ان کے اہل خانہ کی بھوک ہڑتال

   

رامیشورم: تمل ناڈو کے 68 ماہی گیروں کو رہاکرنے کامطالبہ کرتے ہوئے راماناتھاپورم کی ساحلی بستیوں کے 2000 سے زیادہ ماہی گیروں اور ان کے خاندان چہارشنبہکو تھانگاچمادم میں ایک دن کی بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ۔ سری لنکا کی بحریہ نے ان کی سرحد میں داخل ہوکرمچھلی پکڑنے پر تمل ناڈو کے اس ماہی گیروں کو گرفتارکرلیاتھا۔ رامیشورم میں 11 ماہی گیروں کی تنظیموں کے لیڈران نے بھوک ہڑتال کرنے کی اپیل کی۔رامیشورم پورٹ مکینیکل بوٹ فشرمین ایسوسی ایشن کے صدر این جے بوس نے کہا کہ تمل ناڈو کے ماہی گیروں کے روایتی حقوق کو یقینی بناتے ہوئے مرکزی حکومت کو ٹھوس قدم اٹھانے چاہیے ۔سری لنکا بحریہ خلیج پالک میں سرحد کی خلاف ورزی کرنے پر مچھلیاں پکڑنے والے ماہی گیروں کو پریشان کر رہی ہے ۔اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ماہی گیروں کی انجمنوں نے تمل ناڈو اور سری لنکا کے ماہی گیروں کوساتھ لے کر ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ماہی گیروں کی انجمنوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر 31 دسمبر تک گرفتار کیے گئے تمام ماہی گیروں کو رہا نہیں کیا جاتا ہے تو تھانگاچیمادم میں یکم جنوری کو چنئی ایکسپریس ٹرین روکیں گے ۔ماہی گیروں کے رہنماؤں اور گرفتار ماہی گیروں کے اہل خانہ کاایک وفد وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر اور ماہی پروری کے وزیر پرشوتم روپالا سے ملنے نئی دہلی جا رہاہے ۔ جہاں انہیں ایک میمورنڈم سونپا جائے گا۔