مصالحہ جات کی خریدی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ آن لائین آرڈرس پر بھی توجہ
حیدرآباد۔19فروری(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں گذشتہ برس محکمہ انکم ٹیکس‘ جی ایس ٹی اور دیگر محکمہ جات کی کاروائیوں کے بعد اب ماہ رمضان المبارک کے دوران حلیم پر ان محکمہ جات کی نظریں مرکوز ہیں ۔ کہا جا رہاہے کہ متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداردونوں شہروں میں حلیم اور اس کی تیاری میں استعمال کی جانے والی اشیاء کے سلسلہ میں تاجرین سے تفصیلات حاصل کرنے لگے ہیں تاکہ شہر کے سرکردہ حلیم فروخت کرنے والی ریستوراں کی جانب سے حلیم کی فروخت کا حساب رکھا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق جی ایس ٹی اور محکمہ انکم ٹیکس نے شہر کی مختلف ریستوراں کے ذمہ داروں کی خریدی کے متعلق تمام تفصیلات اکٹھا کرنے کے ساتھ فروخت کے مراکز پر نظریں مرکوز کی ہوئی ہیں۔ سال گذشتہ انکم ٹیکس کے دھاوے اور جی ایس ٹی سے نوٹسوں کی اجرائی کے بعد کہا جارہاہے کہ ٹیکس چوری تحقیقات اب انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے حوالہ کرنے کے اقداما ت کئے جا رہے ہیں اسی لئے دونوں محکمہ جات انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی نے تحقیقات کو بند نہیں کیا بلکہ ماہ رمضان المبارک کے دوران دونوں شہروں میں حلیم کے متعلق تفصیلات حاصل کرنی شروع کردی ہیں علاوہ ازیں آن لائن آرڈرس کے ریکارڈ س حاصل کئے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انکم ٹیکس دھاوے میں جو تفصیلات حاصل ہوئی ہیں ان میںریستوراں ذمہ داروں کی جانب سے اپنے ریکارڈس کو ڈیلیٹ کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے اسی لئے اب محکمہ عہدیداروں نے بھی حلیم کی فروخت کے حقیقی اعداد و شمار کے حصول کیلئے تکنیکی سہولتوں کا استعمال کرنے کے علاوہ ZOMATO اور SWIGGY پر آرڈرس کی تفصیلات کے ساتھ انفرادی ریستوراں پہنچ کر حلیم خریدنے والوں کی حقیقی تعداد پر بھی نظر رکھنے عملہ کو تیار کیاہے۔ ذرائع کے مطابق ماہ رمضان المبارک میں حلیم کی تیاری کیلئے مصالحہ جات و گوشت کی خریداری کی تفصیلات بھی جی ایس ٹی اور انکم ٹیکس عہدیداروں نے حاصل کرلی ہیں تاکہ خریدی اور فروخت میں کسی فرق پر کاروائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ پڑوسی آندھراپردیش میں ریستوراں کی جانب سے کروڑہا روپئے ٹیکس چوری انکشافات کے بعد محکمہ انکم ٹیکس‘ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ و جی ایس ٹی حرکت میں آئے ہیں اور ان ریستوراں مالکین کی نقل و حرکت پر نظر رکھ کر تفصیلات حاصل کررہے ہیں۔3