تجارت ٹھپ، ٹھیلہ بنڈی کاروبار متاثر، علاج و معالجہ و دیگر اخراجات سے محرومی
حیدرآباد۔23اپریل(سیاست نیوز) ماہ رمضان المبارک کے دوران معمولی کام کاج کے ذریعہ روزگار حاصل کرنے والوں کیلئے اس سال بہت بڑی آزمائش ہوگی اور انہیں کوئی کاروبار یا ذریعہ حاصل نہیں ہوگا جس کے ذریعہ وہ ماہ رمضان المبارک معمول کے مطابق گذار سکیں کیونکہ لاک ڈاؤن کے سبب بازاروں میں کوئی سرگرمیاں نہیں ہوں گی اور نہ ہی کسی کو کسی بھی طرح کے کاروبار کی اجازت حاصل رہے گی۔ ماہر رمضان کے دوران فٹ پاتھ پر تجارت کرنے والے محمد علی نے کہا کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران شہر حیدرآباد میں وہ گلزار حوض کے قریب چپلوں کا کاروبار کیا کرتے تھے اور اس ایک ماہ کے کاروبار کے دوران انہیں اتنی آمدنی ہوجایا کرتی تھی کہ وہ اپنے بچوں کی فیس کی ادائیگی کے علاوہ چند ماہ گھریلو اخراجات کی تکمیل کرلیا کرتے تھے۔توفیق نامی نوجوان نے بتایا کہ وہ سال بھر آٹو چلاتے ہیں لیکن رمضان المبارک کے دوران وہ مصنوعی زیورات اور سنگھار کے اشیاء کی ٹھیلہ لگایا کرتے تھے لیکن اب لاک ڈاؤن کی وجہ سے نہ آٹو چلا پا رہے ہیں اور نہ ہی ماہ رمضان المبارک کے دوران وہ کاروبار کر پائیں گے۔کپڑوں کی دکان پر کام کرنے والے ملازمین کی بھی یہی صورتحال ہے کیونکہ ماہ رمضان کے دوران کاروبار میں اضافہ کے سبب مالکین انہیں بونس یا عیدی کے نام پرایک ماہ کی تنخواہ دیا کرتے تھے لیکن اب جبکہ گذشتہ ایک ماہ سے کاروبار بند ہیں اور کوئی خدمات جاری نہیں ہیںایسی صورت میں ان ملازمین کو بھی توقع نہیں ہے کہ ان کو اس ماہ مبارک کے دوران کوئی اضافی تنخواہ حاصل ہوگی۔فہیم الدین نامی ٹھیلہ بنڈی راں جو کہ ماہ رمضان کے دوران پھل فروخت کرتے ہیں نے بتایا کہ وہ چلنے سے معذور ہیں اسی لئے ہر گلی گھوم کر پھل فروخت نہیں کرسکتے اسی لئے وہ پرانے شہر میں واقع شاہ علی بنڈہ کے علاقہ میں موز یا کوئی اور میوہ فروخت کرتے ہوئے اپنے ادویات کا انتظام کیا کرتے تھے ۔انہوں نے بتایا کہ ان کے لڑکے بھی پھلوں کو فروخت کرتے ہیں اور گذربسر ہوجایا کرتی ہے لیکن ماہ رمضان المبارک کے دوران وہ اپنے بیٹوں کا ہاتھ بٹاتے ہوئے اتنا کما لیا کرتے تھے کہ ان کی ادویات کا انتظام ہوجایا کرتا تھا۔محمد فضل احمد ٹرالی ڈرائیور کی حالت بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہے ۔ان کا کہناہے کہ وہ ماہ رمضان سے قبل ہی راشن کی سربراہی اور کانات سے گھروں تک راشن پہنچانے کا کام کرتے تھے اور ماہ رمضان کے دوران وہ ریڈی میڈ فراکس کی فروخت کے ذریعہ آمدنی حاصل کیا کرتے تھے لیکن اب ان کی گذر بسر بھی مشکل ہونے لگی ہے کیونکہ ٹرالیوں کے ذریعہ راشن کی منتقلی کے لئے اجازت کا حصول لازمی ہے اور وہ اجازت حاصل نہیں کرپائے اور اب جبکہ رمضان المبارک شروع ہونے جا رہا ہے تو کاروبار کا بھی امکان نہیں ہے۔