ماہ رمضان کے آخری عشرہ کا بھی خاموشی سے آغاز

   

اجتماعی مذہبی سرگرمیوں سے گریز۔ ڈیجیٹل خطابات کا نیا رجحان
حیدرآباد۔14مئی (سیاست نیوز) ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا آغاز ہوچکا ہے اور شہر میں کسی مقام پر ماہ مقدس کی سرگرمیاں نظر نہیں آرہی ہے اور نہ حکومت سے اجازت فراہم کی جارہی ہے ۔ اسکے باوجود ماہ رمضان کے آخری عشرہ کے دوران طاق راتوں کے اہتمام کے علاوہ خصوصی عبادات کے گھروں میں اہتمام پر توجہ دی جارہی ہے اور ڈیجیٹل خطابات کا سلسلہ جاری ہے ۔ آخری عشرہ میں ڈیجیٹل خطابات اور لیلۃ القدر و طاق راتوں کے اہتمام کا شیڈول جاری کیا جانے لگا ہے اور شہر کے علاوہ دنیا بھر کے علمائے اکرام کے ڈیجیٹل خطابات کے شیڈول جاری ہو رہے ہیں ۔ اعتکاف کے سلسلہ میں فتاوی کے بعد دنیا کے مختلف مقامات پر اجتماعی اعتکاف بھی منسوخ کئے جاچکے ہیں لیکن درس و تدریس میں مصروف اکابر علماء کی جانب سے ڈیجیٹل خطابات کی تیاری کرلی گئی ہے اور وہ دنیا بھر میں روزانہ آن لائن درس و تدریس انجام دینے میں مصروف ہیں ۔ اجتماعی اعتکاف نہ ہونے سے دنیا بھر سے پہنچنے والے افراد اور معتکفین اپنے مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں اور ان تک رسائی کا بہترین ذریعہ آن لائن ہے۔شہر میں لیلۃ القدر و طاق راتوں کے اہتمام کے سلسلہ میں مختلف علماء و اکابرین کی جانب سے روزانہ ایک گھنٹہ اور طاق رات کے موقع پر کچھ اضافی وقت خطابات و اعمال ذکر و اذکار کا اہتمام کیا جائیگا۔ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عموما گہما گہمی ہوا کرتی تھی اور بازاروں میں ہجوم کے علاوہ مساجد میں اعتکاف و طاق راتوں کے اہتمام کی دھوم ہو تی لیکن اس مرتبہ لاک ڈاؤن سے نہ مساجد میں مصلی ہیں اور نہ بازاروں میں ہجوم ‘ اسی لئے دوزخ سے نجات کے آخری عشرہ کے باوجود یہ احساس نہیں ہورہا کہ ماہ رمضان المبارک اب گذرنے والے ہیں۔علماء کے فتوی اور بیان جاری کے بعدملک بھر میں کہیں بھی اجتماعات منعقد نہیں کئے جارہے ہیں۔