ماہ ستمبر سے کے سی آر کو خوف‘ ستمگر ثابت ہونے کا اندیشہ

,

   

اہم سیاسی تبدیلیوں کے امکانات ‘ کئی سینئر قائدین کی کانگریس پر نظریں‘ ناگیشور راؤ کی شمولیت سے آغاز ہوگا
کاماریڈی سے مقابلہ پر مسلمانوں میں بے چینی

حیدرآباد۔/3ستمبر‘ ( سیاست نیوز) عام طور پر ستمبر کے مہینہ کو مصیبتوں اور امتحانات سے پُر تصور کیا جاتا ہے۔ ستمبر میں آفات سماوی کے تحت عام طور پر تباہ کاریوں کے نتیجہ میں یہ مہینہ عام لوگوں میں ’ستمگر‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی حلقوں میں ماہ ستمبر کو غیر معمولی اہمیت دی جارہی ہے اور اس مہینہ میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ اسمبلی انتخابات کیلئے ستمبر کے اواخر یا پھر اکٹوبر کے اوائل میں الیکشن کمیشن سے اعلامیہ کی اجرائی کا امکان ہے لہذا سیاسی تبدیلیاں اس مہینہ میں عروج پر پہنچ سکتی ہیں۔ برسراقتدار بی آر ایس کیلئے ستمبر کا مہینہ کہیں ’ستمگر‘ توثابت نہ ہو اس کے لئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ہر طرح سے ’ بندش‘ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کے سی آر ویسے بھی زیادہ توہم پرست ثابت ہوئے ہیں اور وہ کوئی بھی فیصلہ نجومیوں اور پنڈتوں کے مشورہ کے بغیر نہیں کرتے حالانکہ نجومیوں کے کئی مشورے کے سی آر کیلئے حالیہ عرصہ میں نقصاندہ ثابت ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر نے اگسٹ میں اسمبلی کے 115 امیدواروں کی فہرست جاری کردی اور اس میں سب سے اہم فیصلہ دو اسمبلی حلقہ جات سے خود کے مقابلہ کا ہے۔ موجودہ ارکان اسمبلی کو تبدیل کئے بغیر اکثریت کو دوبارہ ٹکٹ دینے سے اسمبلی حلقہ جات میں ناراضگی عروج پر ہے تو دوسری طرف دو اسمبلی حلقہ جات سے مقابلہ کا کے سی آر کا فیصلہ سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن چکا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ چیف منسٹر نے دو حلقہ جات سے مقابلہ کا فیصلہ کرتے ہوئے پارٹی کے کمزور موقف کو تسلیم کرلیا ہے۔ چیف منسٹر اگر گجویل سے مقابلہ پر قائم رہتے تو مخالفین کو تنقید کا موقع نہیں ملتا تھا لیکن اب کہا یہ جارہا ہے کہ کے سی آر نے گجویل میں عوامی ناراضگی محسوس کرتے ہوئے ایک ایسے اسمبلی حلقہ کا انتخاب کیا جہاں انہیں کامیابی کیلئے زیادہ محنت کرنی نہیں پڑے گی۔ کانگریس کے واحد مسلم لیڈر محمد علی شبیر سے مقابلہ کا اعلان کرتے ہوئے کے سی آر نے مسلمانوں میں بے چینی پیدا کردی ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ چیف منسٹر کسی اور پارٹی میں مسلم قیادت کو اُبھرنے دینا نہیں چاہتے۔ رہا سوال ستمبر کے’ستمگر‘ ہونے کا تو اس بارے میں آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہوجائے گی۔ بی آر ایس کے بعض ناراض ارکان اسمبلی نے کانگریس میں شمولیت کی تیاری کرلی ہے۔ پارٹی کے کئی مضبوط اور سینئر قائدین نے پہلے ہی کانگریس کا دامن تھام لیا ہے جن میں کھمم کے بااثر پی سرینواس ریڈی اور متحدہ محبوب نگر ضلع کے جوپلی کرشنا راؤ شامل ہیں۔ سابق وزیر پی مہیندر ریڈی کی کانگریس میں شمولیت کا جیسے ہی اشارہ ملا کے سی آر نے انہیں وزارت میں شامل کرتے ہوئے انحراف سے روک لیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ناراض قائدین کو اہم عہدوں پر فائز کرنے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ ٹکٹ سے محرومی پر ویملواڑہ کے رکن اسمبلی سی ایچ رمیش ناراض تھے تو انہیں زرعی امور میں حکومت کا مشیر مقرر کرتے ہوئے کابینی درجہ دیا گیا۔ رمیش کو خوش کرنے کیلئے ان کے والد آنجہانی سی ایچ راجیشور راؤ جو تلنگانہ میں ممتاز کمیونسٹ رہنما تھے ان کے نام سے کالیشورم پراجکٹ کے ایک حصہ کو موسوم کیا گیا۔ ستمبر میں کے سی آر کیلئے جو تبدیلیاں تکلیف دہ ثابت ہوسکتی ہیں ان میں سابق وزیر ٹی ناگیشورراؤ کی کانگریس میں امکانی شمولیت ہے۔ کھمم کے ناگیشور راؤ کسی بھی وقت کانگریس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ نظام آباد سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر ایم وینکٹیشور راؤ بھی کانگریس کا دامن تھام سکتے ہیں۔ ناگیشور راؤ اور وینکٹیشور راؤ دونوں کما طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں قائدین میں کافی قربت بتائی جاتی ہے۔ وینکٹیشورراؤ نے اگرچہ کانگریس میں شمولیت کی تردید کی ہے لیکن کانگریس ذرائع مطمئن ہیں کہ جاریہ ماہ کے اواخر تک وینکٹیشور راؤ اور دیگر کئی قائدین کانگریس میں شامل ہوں گے۔ خانہ پور کی رکن اسمبلی ریکھا نائیک نے کانگریس ٹکٹ کیلئے پہلے ہی درخواست داخل کردی ہے۔ ان کے شوہر کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں۔ ملکاجگیری کے رکن اسمبلی ایم ہنمنت راؤ کی کانگریس میں شمولیت کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بی آر ایس اور بی جے پی کے کئی سرکردہ قائدین صدر کانگریس ریونت ریڈی سے ربط میں ہیں۔ سابق رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر جی وینکٹ سوامی کے فرزند جی ویویک توقع ہے کہ جلد ہی کانگریس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے گھر واپسی کرلیں گے۔