’’مایونیز‘‘ پر امتناع عائد کرنے جی ایچ ایم سی کی تیاری

   

منظوری کیلئے حکومت کو مکتوب ، شہر کے مختلف ہوٹلوں پر دھاوا کرنے کے بعد فیصلہ

حیدرآباد ۔ 26 اکٹوبر (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کی جانب سے عوام کا پسندیدہ مقبول عام ’’مایونیز‘‘ پر امتناع عائد کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ مایونیز کا عام طور پر مندی، بریانی، کباب، پیزا، برگر، سینڈوچ اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء میں چٹنی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حالیہ ہوٹلوں، ریستوران اور فاسٹ فوڈ وغیرہ پر ناقص مایونیز پائے جانے کی شکایت وصول ہونے کے بعد جی ایچ ایم سی کے فوڈ ایڈلٹریشن کنٹرول ڈپارٹمنٹ نے کئی دھاوے کئے۔ وہاں پائی جانے والی غذائی اجناس کا معائنہ کرنے کے بعد چوکنا ہوگیا۔ بار بار انتباہ دینے کے باوجود ہوٹلوں کے رویے میں کوئی تبدیلی کو نہ دیکھتے ہوئے حکومت کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے اور ’’مایونیز‘‘ پر امتناع عائد کرنے کی منظوری طلب کی ہے۔ حال ہی میں الوال میں واقع گرل ہاؤس ہوٹل میں ناقص مایونیز کھانے کے بعد چند نوجوانوں کی حالت نازک ہوگئی جنہیں ہاسپٹل میں شریک کرایا گیا۔ جاریہ سال جنوری میں اس طرح کا ایک اور واقعہ پیش آیا۔ اسی ہوٹل میں شاورما کھانے والے 20 سے زائد نوجوانوں کو تین تا چار دن تک ہاسپٹلس میں زیرعلاج رہنا پڑا تھا۔ ڈاکٹرس نے چند متاثرہ نوجوانوں کے خون کا ٹسٹ کیا جس میں سالمونیلا بیکٹیریا موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس طرح سکندرآباد ایسٹ میٹرو اسٹیشن کی ایک ہوٹل، ٹولی چوکی، چندرائن گٹہ، کاٹے دھن، بنجارہ ہلز کے ہوٹلوں میں شاورما، مندی، بریانی، برگر میں ناقص ’’مایونیز‘‘ پایا گیا ہے۔ مایونیز انڈے کی زردی، لیمو کے رس، تیل اور نمک سے بنتی ہے۔ اس کی تیاری میں صفائی کا خیال نہ رکھنے کی شکایت وصول ہورہی ہیں۔ جی ایچ ایم سی کے شعبہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس طرح کا مایونیز بہت خطرناک ہے۔ مایونیز کو تیار کرنے کے بعد صرف 3 تا 4 گھنٹوں میں استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ زیادہ ذخیرہ رکھنے سے بیکٹیریا پیدا ہوجانے کے امکانات زیادہ ہیں۔