دعویداروں کی تعداد میں اضافہ کی وجہ امیدواروں کی نامزدگی میں سیاسی پارٹیوں کو تذبذب
نظام آباد : ارکان اسمبلی کے زمرہ میں 6 ایم ایل سیز کی نشستوں کے انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی نظام آباد ، کاماریڈی اضلاع میں ایم ایل سی کے عہدہ کے حصول کیلئے سرگرمیاں تیز ہوچکی ہے ۔ واضح رہے کہ ریاست تلنگانہ کے 6 ایم ایل سیز کی معیاد ختم ہوکر تقریبا6 ماہ کا عرصہ ہوچکا ہے ۔ کورونا کے باعث ایم ایل سیز کے انتخابات ملتوی رکھے گئے تھے الیکشن کمیشن نے ان ایم ایل سیز کے انتخابات کیلئے اعلامیہ جاری کیا ہے ان 6 ایم ایل سیز کی معیاد ختم ہوچکی ہے ۔ جن میں قابل ذکر محمد فرید الدین، آکولہ للیتا ، گپتا سکھیندر ریڈی ، کڑیم سری ہری ، وینکٹیشورلو شامل ہے ۔ جبکہ آئندہ سال جنوری میں 5 تاریخ کو 12 ایم ایل سیز کی معیاد ختم ہورہی ہے جن میں کے کویتا نظام آباد ایم ایل سی کی معیاد ختم ہورہی ہے ۔نظام آباد ضلع سے کے کویتا کی معیاد بھی 6 ماہ قبل ختم ہوچکی ہے آکولہ للیتا کانگریس پارٹی سے منتخب ہوچکی تھیں اور 2018 ء میں آرمور سے کانگریس کے ٹکٹ پر ایم ایل اے کیلئے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور ناکامی کے بعد فوری ٹی آرایس میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور ٹی آرایس میں شمولیت کے وقت چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو نے انہیں دوبارہ ایم ایل سی کی حیثیت سے منتخب کرنے کا تیقن دیا تھا ۔ ان کے علاوہ ایم ایل سی کے عہد ہ کے حصول کیلئے ٹی آرایس کے سینئر قائدین ایگا گنگاریڈی صدر ضلع ٹی آرایس ، ٹی آرایس اسٹیٹ سکریٹری طارق انصاری ، ریاستی اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے صدر ایم کے مجیب الدین کے علاوہ سابق ایم ایل سی نرسا ریڈی بھی ایم ایل سی کے عہدہ کے حاصل کیلئے کوشاں ہے ۔ اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی خواہشمند دعویدار عہدہ کے حصول کیلئے دیکھا جارہا ہے ۔طارق انصاری اور ایگاگنگاریڈی چیف منسٹر چندرشیکھر رائو ، کے ٹی آر اور کے کویتا کے ذریعہ عہدہ حاصل کررہے ہیں جبکہ ایم کے مجیب الدین ، کے کویتا اور کے ٹی آر عہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ متحدہ ضلع سے دعویدار زیادہ ہونے کی وجہ سے ہائی کمانڈ کیلئے انتخاب کرنا مشکل ہورہا ہے جبکہ اقلیتی زمرہ سے ایک شخص کو نامزد کرنے کے امکانات ہے ۔ فرید الدین کی معیاد بھی ختم ہوچکی ہے اور انہیں چیف منسٹر چندر شیکھر رائو اور ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کا آشیرواد حاصل ہے ۔ جس کی وجہ سے اقلیتی قائدین کو موقع دینا ممکن نظر آرہا ہے ۔ طارق انصاری تحریک کے دور سے ٹی آرایس پارٹی میں سرگرم ہے اور یہ اسٹیٹ سکریٹری کے حیثیت سے بھی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ ایم ایل سیز کے امیدواروں کا انتخاب ہائی کمانڈ کیلئے زبردست چیلنج ہے ۔
