’’متحد ہم کو سیاست نہیں رہنے دے گی‘‘

   

محمد نصیرالدین

ملت اِسلامیہ کی یہ کتنی بدقسمتی ہے کہ وہ افراد جو خود کو ملت کے رہنما اور رہبر قرار دیتے ہیں، مختلف اداروں، انجمنوں اور مدارس کے روح رواں جانے جاتے ہیں، آج ملت اسلامیہ کے لئے شرمندگی اور پشیمانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ندوہ میں حالیہ دنوں ہوئے واقعات نے ہر دردمند مسلمان کے سر کو شرم سے جھکادیا ہے۔ وہ لوگ جو رات دن قال اللہ وقال الرسولؐ کا درس دیتے ہیں، تعلیماتِ قرآنی اور سیرت رسولؐ پر عمل کی تلقین کرتے ہیں، دینی علوم کی تدریس، تحقیق اور تصنیف جن کا روز و شب کا مشغلہ ہے، آج آپس میں دست و گریباں ہیں اور منصب اور اجارہ داری کے حصول کی خواہش میں عظمتِ اسلام کو داغدار کرنے میں لگے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ملت کے علماء، قائدین اور رہنما کہلانے والے اپنے عمل سے وحدتِ ملت کو پارہ پارہ کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔
زیادہ دن نہیں گزرے کہ ملک کی ایک بڑی مذہبی جماعت کے رہنما دو دھڑلوں میں بٹ گئے اور مختلف مقامات پر اپنے پیروؤں کو بھڑا دینے چچا بھتیجہ کے اختلافات نے ایک اچھی خاصی تنظیم کو تقسیم کرکے بے اثر بنادیا، حدیث رسولؐ کی اتباع کرنے والوں نے بھی اپنی تنظیم کو تقسیم کرتے ہوئے اپنے اتباع رسولؐ کے دعویٰ کو مضحکہ خیز بنادیا۔
کیرالا کی لیگ 2 حصوں میں تقسیم ہوئی تو ادھر حیدرآباد کی سیاسی جماعت بھی تقسیم ہونے سے نہیں بچ سکی۔ اتنا ہی نہیں برصغیر کے معروف یونانی دواساز کمپنیاں ’’ہمدرد‘‘ اور ’’ریکس‘‘ بھی انتشار سے نہیں بچ سکے۔ کل ہند سطح پر مجلس مشاورت اور مسلم پرسنل لاء بورڈ بھی انتشاری کیفیت سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ ملک میں الحمداللہ معروف علمائے کرام پائے جاتے ہیں، مختلف دینی جماعتیں موجود ہیں اور کئی ایک دانشور حضرات بھی سرگرم عمل ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ ’’مسلمانوں کے دو گروہ جب آپس میں لڑجاتے ہیں‘‘ تو انھیں روکنے اور اختلافات کو ختم کرانے کی کسی بھی گوشہ سے کسی قسم کی کوشش نہیں ہوتی؟ یہ کیسے علمبرداران دینِ متین ہیں جو اپنی انا، اپنی شخصیت، اپنے نفس اور اپنی مرضی کو نعوذباللہ اتحاد و اتفاق کے الٰہی فرمان اور ہدایتِ نبویؐ پر فوقیت دیتے ہیں۔ دوسری طرف باہم دست و گریباں گروہ کو صلح صفائی اور اتحاد کی طرف متوجہ کرنے کی کہیں سے پہل نظر نہیں آتی جبکہ قرآن مجید میں صریح ہدایت دی گئی ہے کہ ’’مسلمانوں کے دو گروہ جب آپس میں لڑ پڑیں‘‘ تو ان کے درمیان صلح صفائی اور بھائی چارہ پیدا کرنے کی کوشش کرو۔
مختلف عنوانات سے ملک میں جابجا بڑے بڑے جلسوں اور اجتماعات کا وقفہ وقفہ سے انعقاد کیا جاتا ہے، دین کے نام پر کانفرنس اور اجلاس منعقد کئے جاتے ہیں اور اُمت محمدیہؐ کو دینی احکام کی پابندی کرنے کی تلقین کی جاتی ہے، مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق سے رہنے کی نصیحت کی جاتی ہے اور زور دے کر کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو درپیش تمام مسائل اور مشکلات کی اہم وجہ باہمی انتشار و افتراق ہے!! غور کریں تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ملت اسلامیہ کا عمومی طبقہ اتحاد و اتفاق کے ساتھ زندگی بسر کررہا ہے لیکن اُن کے رہنما اور رہبر ہی باہمی انتشار و افتراق میں مبتلا ہیں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہیں، ایک دوسرے کو صحیح اور غلط ثابت کرنے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کررہے ہیں۔ مشاہدہ بتلاتا ہے کہ دین کی خدمت اور ملت کی تعمیر کے نام پر مختلف لوگوں نے بڑی بڑی جائیدادیں اور عمارتیں بنائیں، عیش و عشرت کا بے پناہ سامان مہیا کرلیا اور مختلف حکومتوں سے ملت کی رہبری و قیادت کا بھرپور صلہ بھی حاصل کرلیا۔ اب وہ نہیں چاہتے کہ کسی بھی قیمت پر وہ ان سے دستبردار ہوں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ سب اثاثے محض ان کی اور ان کی نسل ہی کے حصے میں رہیں۔
یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج جب کہ ملک میں فاشسٹ اور تاناشاہی حکمراں مسلط ہیں اور جن کا اوّلین مقصد مسلمانوں کو مٹادینا ہے، ان کی مذہبی و دینی شناخت کو ختم کردینا، تمام مسلمانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کردینا ہے، جنھوں نے کشمیریوں کو 2 مہینے سے ناقابل بیان مصائب میں مبتلا کردیا ہے، یونیفارم سیول کوڈ لانے کی تیاری کی جارہی ہے، مذہبی آزادی کو ختم کرنے کے درپہ ہیں اور انسانی حقوق کی نئی تشریح و تعبیر کرنے میں لگے ہیں اور یکے بعد دیگرے اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنارہے ہیں لیکن دوسری طرف ملت اسلامیہ کے رہبر و رہنما آپسی کھینچ تان میں توانائیاں صرف کررہے ہیں گویا کہ حکمرانوں کی چیرہ دستیوں اور سازشوں سے انھیں کوئی واسطہ نہیں ہے!

عالم اسلام کے جیّد اور معروف اسلامی اسکالر شیخ محمد الغزالی نے مسلمانوں میں انتشار و افتراق پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا :’’مخلص اہل علم کے درمیان اگر کسی مسئلہ میں اختلاف ہوگا تو وہ اختلاف وقتی اور عارضی ہوگا، مستقل اور دیرپا نہیں ہوگا، وہ پیدا ہوگا اور ختم ہوجائے گا۔ اور اگر وہ طول پکڑ گیا تو یہ ممکن نہیں کہ اس سے دلوں میں کینہ یا مسلمانوں کی صفوں میں رخنہ نہ پیدا ہو۔ اگر اس طرح کی کوئی بات ہوتی ہے تو لازماً اس کے کچھ ’’خارجی‘‘ اسباب ہوں گے۔ یا تو اس میں جہالت کا ہاتھ ہوگا یا نفسانیت کا شائبہ ہوگا یا ان دونوں کا اشتراک ہوگا۔ ہم نے بہت سے اختلافات کا جائزہ لیا تو ان کی تہہ میں ایسی چیزیں نظر آئیں جو بے لوث، علم و تحقیق اور خالص حق پسندی کے منافی تھیں۔ اگر نفسانی خواہشات ختم ہوجاتیں، انانیت کے جذبات سرد پڑجاتے، کسی نظریہ کی تائید یا کسی مذہب کی اشاعت کے پیچھے جو دوسرے بہت سے اغراض ہوتے ہیں وہ اغراض مٹ جاتے تو دسیوں فرقے پیدا ہوتے ہی مرجاتے، کِھلنے سے پہلے ہی مُرجھا جاتے یا کم از کم کتابوں کے صفحات اور درس کے حلقوں میں محدود رہتے۔ آزاد فکر و تحقیق کے میدان میں رایوں کا اختلاف ہوتا ہے۔ مختلف رائیں سامنے آتی ہیں مگر ان کا شوروغل بس اسی وقت تک رہتا ہے جب تک گفتگو جاری رہے اور گفتگو ختم نہیں ہوئی کہ سارے ہنگامے ختم، علم میں وسعت ہو تو فکر و نظر میں وسعت ہوتی ہے، نیت صالح ہو تو سینے میں فراخی اور ظرف میں کشادگی ہوتی ہے اور ایمان خالص ہو تو وحدت اور مرکزیت کی بے پناہ اُمنگ ہوتی ہے۔ پھر جو دین انہی حقائق پر قائم رہے اس میں اختلاف و افتراق کا کیا سوال؟ البتہ جب علم و اخلاص کے چشمے خشک ہوجاتے ہیں، ایمان و تقویٰ کے چراغ گل ہوجاتے ہیں اور دوسرے نامانوس چہرے میدان میں آجاتے ہیں تو اختلافات بڑھتے اور سنگین صورتحال اختیار کرلیتے ہیں۔ جب علم و اخلاص اور ایمان کے رشتے کمزور ہوجاتے ہیں اور حکومت و وجاہت کی آرزو، سیاست کا فریب اور حکومت کی بدعنوانیاں بیچ میں آجاتی ہیں تو اس وقت زیرہ قبّہ اور رائی پربت بن جاتا ہے۔ اس وقت یہ نہیں ہوتا کہ کچھ لوگ کہیں بیٹھیں اور سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔ کسی مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کریں بلکہ اس وقت تو تمام باتوں کے سرے مسلح ہاتھوں میں ہوتے ہیں۔ جدھر دیکھو غصہ و نفرت کی چیخیں ہوتی ہیں جو پوری فضا کو آتش فشاں بنادیتی ہیں۔ بُرا ہو خاندانی عصبیتوں، گروہی منفعتوں اور فریب خوردہ سربراہوں کے سفلہ مزاجیوں کا کہ یہ ان اختلافات کو ختم ہونے نہیں دیتیں۔ یہ چاہتی ہیں کہ اُمت کی صفوں میں یہ اختلافات ہمیشہ زندہ رہیں کہ انہی کے نام پر وہ بھی جیتی رہیں۔ میں تمام مسلمانوں کو آگاہ کرتا ہوں خواہ وہ مشرق کے ہوں یا مغرب کے، میں انھیں ہوشیار کرتا ہوں کہ وہ کتاب و سنت کا رشتہ ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ وہ اغراض کے بندوں اور حرص و ہوس کے پتلوں کو اس کا موقع نہ دیں کہ وہ ذرا ذرا سے اختلافات کو ہوا دیں، ان کی انگیٹھیاں دہکاکر اپنے ناپاک مقاصد کیلئے انھیں استعمال کریں اور ان کے شعلوں سے ہمارے تعلقات کی قبا خاکستر کر ڈالیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت اور ان کی نگہداشت کی تاکید فرمائی ہے‘‘۔ (محمد الغزالی)
کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ملت کے دردمند اور مخلص احباب آگے بڑھیں اور باہم دست و گریباں گروہوں سے ملت اور ملت کے اداروں و جامعات کو ہونے والے نقصان سے بچائیں۔ یہ بات بھی ملت کے تمام سربرآوردہ اصحاب کو واضح طور پر سمجھ لینی چاہئے کہ ان کا وجود، ان کے ادارے اور جماعتیں، ان کی شہرت اور ناموری، ان کے عہدے اور مناصب سب کے سب دین و ایمان کے طفیل انھیں حاصل ہوئے ہیں۔ اگر انھوں نے اپنی اَنا، اپنے مفاد اور دیگر مناصب کیلئے ملی اتحاد اور ملی کاز کو نقصان پہنچایا تو رسوائی اور ذلت ہی ان کا مقدر اور مستقبل ہوگی۔ انہیں اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ کہیں وہ کسی کے اِشاروں پر ملی انتشار کا بیج تو نہیں بو رہے ہیں، غیر شعوری طور پر کسی کے آلۂ کار تو نہیں بن گئے ہیں یا پھر دنیا کی زندگی نے انہیں اتنا مدہوش کردیا ہے کہ وہ آخرت اور آخرت کی بازپرس کو بھول بیٹھے ہیں ؟ ؎
مل کر بھی ہم رہنا چاہیں تو رہ نہیں سکتے
متحد ہم کو سیاست نہیں رہنے دے گی