پرانے شہر کے مسلمانوں کی حب الوطنی شبہ سے بالاتر، مستقبل میں احتیاط کرنے کا تیقن
حیدرآباد۔ کانگریس کے لیڈر اور انچارج نامیلی محمد فیروز خاں نے اپنے حالیہ بیانات کے سلسلہ میں عوام بالخصوص مسلمانوں سے غیر مشروط معذرت خواہی کی ہے۔ پرانے شہر کے بارے میں فیروزخاں کے حالیہ متنازعہ انٹرویو کے بعد میڈیا میں ان پر کڑی تنقید کی جارہی تھی۔ پارٹی کے کئی قائدین نے تادیبی کارروائی کمیٹی سے اس مسئلہ کو رجوع کیا اور تادیبی کمیٹی نے فیروز خاں کو وجہ نمائی نوٹس کی اجرائی کا فیصلہ کیا ہے۔ متنازعہ انٹرویو سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے تھے۔ اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے فیروز خاں نے کہا کہ تلگو چیانل کو دیئے گئے انٹرویو کو مکمل پیش نہیں کیا گیا اور انٹرویو کو توڑ مروڑ کر عوام کے درمیان پیش کرتے ہوئے اُلجھن پیدا کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرویو کو متنازعہ بناکر جس انداز میں پیش کیا گیا اس سے عوام میں اُلجھن پیدا ہونا یقینی ہے۔ فیروز خاں نے کہا کہ انٹرویو کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے پر وہ میڈیا چیانلس کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اور عوام میں ان کی بڑھتی مقبولیت سے خائف ہوکر بعض گوشوں کی جانب سے بدنام کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام بالخصوص مسلمانوں سے غیر مشروط معذرت خواہی کرتے ہیں اور آئندہ کبھی بھی دل دکھانے والے بیانات نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عوام کو اُن پر بھروسہ ہے اور وہ آئندہ کبھی بھی متنازعہ مسائل پر اظہار خیال سے گریز کریں گے۔ سیکولرازم اور حب الوطنی کے معاملہ میں مسلمان دیگر اقوام سے پیچھے نہیں ہیں اور پرانے شہر کے مسلمانوں کی حب الوطنی شبہ سے بالا تر ہے۔ پرانے شہر کے مسلمانوں نے انہیں غیر معمولی محبت دی ہے جس کے لئے وہ ہمیشہ شکر گذار رہیں گے اور عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ فیروز خاں نے بی جے پی میں شمولیت سے متعلق اطلاعات کو بھی مسترد کردیا اور کہا کہ وہ سیکولر ہیں اور سیکولرازم پر قائم کانگریس پارٹی میں برقرار رہیں گے۔