l احتجاجی کسانوں سے گھر واپس ہوجانے کی اپیل
l احتجاج پارلیمنٹ میں قوانین کی منسوخی کے بعد ختم کیا جائے گا:ٹکیت
l متحدہ کسان مورچہ کو بھی مناسب پارلیمانی طریقہ کار کا انتظار
l مودی نے ملک کے مفاد میں زرعی قوانین واپس لئے : بی جے پی
l غرور کا سر جھکانے والے کسانوں کو راہول گاندھی کی مبارکباد
l وزیراعظم نے کامیاب سیاستداں ہونے کا ثبوت دیا: امیت شاہ
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) اور زیرو بجٹ فارمنگ کی سفارش کرنے کے لئے ایک کثیر جہتی کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ مودی نے دیو دیوالی اور گرو نانک دیو جی کے پرکاش پروو کے موقع پر قوم سے خطاب میں آج یہاں کہا کہ اُنھوں نے نیک نیتی کے ساتھ کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے یہ تینوں زرعی قوانین لائے تھے ۔ کافی عرصے سے اس کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ کسان بھلے ہی تعداد کم ہو، انہوں نے اس کی مخالفت کی۔ غالباً یہ ہمارے عزم کی کمی تھی کہ ہم انہیں ان تینوں قوانین کے بارے میں سمجھا نہ سکے ۔ شاید کسان برادری کو پریشانی ہوئی جس کے لئے میں معذرت خواہ ہوں۔ مودی نے کہا کہ ان تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کا عمل پارلیمنٹ کے اسی اجلاس میں کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کا اجلاس 29 نومبر سے شروع ہورہا ہے ۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ وزیراعظم کے اعلان پر ردعمل میں بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ کسانوں کا احتجاج فوری طور پر ختم نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے ٹوئٹ کیاکہ احتجاج فوری طور پر واپس نہیں لیا جائے گا، ہم اُس دن کا انتظار کریں گے جب پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ حکومت ایم ایس پی کے ساتھ ساتھ کسانوں کے دیگر مسائل پر بھی بات کرے۔ کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے حکومت کے اعلان کو ناانصافی کی شکست قرار دیتے ہوئے کسانوں کو جیت کی مبارکباد دی اور کہا کہ اَن داتا کے ستیہ گرہ کے سامنے غرور کا سَر جھکا ہے ۔ راہول نے ٹوئٹ کیاکہ ملک کے اَن داتا نے ستیہ گرہ سے غرور کا سر جھکادیا۔ ناانصافی کے خلاف اس جیت پر مبارکباد! جئے ہند، جئے ہند کسان۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ایم ایس پی پر انتخاب کے لئے کمیٹی میں مرکزی حکومت کے نمائندوں کے علاوہ ریاستی حکومتوں، کسان تنظیموں، زرعی ماہرین اور ماہرین اقتصادیات رکھے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں کسانوں اور دیہی لوگوں کے لئے پہلے سے زیادہ محنت کرتا رہوں گا۔واضح رہے کہ کسانوں کی کئی تنظیموں نے دہلی کی سرحدوں پر مورچے بنارکھے ہیں اور ان کے احتجاج کو تقریباً ایک سال ہونے والا ہے ۔اِس دوران برسر اقتدار بی جے پی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے ملک کے مفاد میں زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔بی جے پی کسان مورچہ کے صدر راجکمار چاہر نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے یقینی طور پر کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔تین نئے زرعی قوانین کو منظوری گزشتہ سال ستمبر میں پارلیمنٹ نے دی تھی۔ اس کے بعد صدر رام ناتھ کووند نے تینوں قوانین کی تجویز پر دستخط کئے ۔ تب سے کسانوں کی تنظیموں نے زرعی قوانین کے خلاف تحریک شروع کی ہوئی ہے ۔دریں اثناء متحدہ کسان مورچہ نے وزیراعظم کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وہ مناسب پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے اِن متنازعہ قوانین کی منسوخی کا انتظار کرے گا۔ایک بیان میں مورچہ نے کہا کہ متحدہ کسان مورچہ اس فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے اور مناسب پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے اس اعلان کے نافذ ہونے کا انتظار کرے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ہندوستان میں ایک برس سے چل رہی کسانوں کی تحریک کی تاریخی فتح ہوگی۔ تاہم، اس جدوجہد میں تقریباً 700 کسان شہید ہو چکے ہیں۔ لکھیم پور کھیری قتل واقعہ سمیت اموات کے لئے مرکزی حکومت کی ضد ذمہ دار ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مورچہ وزیر اعظم مودی کو یہ بھی یاد دلانا چاہتا ہے کہ کسانوں کی یہ تحریک نہ صرف تین کالے قوانین کی منسوخی کے لئے ہے بلکہ تمام زرعی مصنوعات اور تمام کسانوں کے لئے مناسب قیمتوں کی قانونی ضمانت کے لئے بھی ہے ۔ کسانوں کا یہ اہم مطالبہ ابھی باقی ہے ۔ اسی طرح بجلی کا ترمیمی بل بھی واپس لینا باقی ہے ۔ تمام پیش رفت کا نوٹس لیتے ہوئے مورچہ جلد ہی اپنی میٹنگ منعقد کرے گااور مزید فیصلوں کا اعلان کرے گا۔مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے تین نئے زرعی قوانین کو واپس لینے حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وزیراعظم مودی نے یہ قدم اٹھا کر کامیاب سیاستداں ہونے کا ثبوت دیاہے ۔ مودی نے پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات اور پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آغاز سے قبل جمعہ کی صبح قوم کے نام اپنے خطاب میں ان قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیاہے ۔ امیت شاہ نے اس اعلان کے بعد ٹوئٹ کیاکہ زرعی قوانین پر وزیر اعظم کا اعلان خوش آئند اور مؤثر سیاسی اقدام ہے ۔