متنازعہ شہریت ترمیمی بل کو کابینہ کی منظوری

   

پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری،نجی ڈاٹا تحفظ بل کے بشمول دیگر پانچ بلوں کو بھی ہری جھنڈی

نئی دہلی، 4 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکز نے متنازعہ شہریت ترمیمی بل2019سمیت چھ اہم بلوں کو آج منظوری دے دی۔ وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ وزیراطلاعات پرکاش جاوڈیکر نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ اجلاس میں شہریت ترمیمی بل اور درج ذیل ذات وقبائل کے ریزرویشن کو دس سال بڑھانے سے متعلق بل کو منظوری دے دی گئی ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں شدید مزاحمت کے باوجود اور اپوزیشن کی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سنسکرت کے تین ڈیمڈ یونیورسٹیوں کو ملا کر ایک مرکزی یونیورسٹی قائم کرنے سے متعلق بل، نجی ڈاٹا کی سلامتی یقینی بنانے والے بل، سینئر شہریوں کی دیکھ بھال، صحت وغیرہ کی فکر کرنے والے بل ، مزدوروں کی بہتری سے متعلق بل اور جموں وکشمیر ریزرویشن بل کو واپس لینے کوبھی منظوری دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ نجی ڈاٹا کی سلامتی کا بل ہندوستان کی سلامتی کو دھیان میں رکھتے ہوئے لایا گیا ہے ۔یہ سوال کئے جانے پر کہ شہری بل میں کیا نئے التزامات اور ترمیم شامل کئے گئے ہیں، جاوڈیکر نے کہاکہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے بعد ہی اس کے بارے میں کچھ بتایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں سبھی شہریوں کے مفادات کا خیال رکھا گیا ہے ایسے التزامات کئے گئے ہیں جن کا سبھی لوگ خیر مقدم کریں گے ۔یہ پوچھے جانے پر اس بل کو پارلیمنٹ میں کب پیش کیا جائے گا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ بل کو ایوان میں جمعرات یا جمعہ کو پیش کیا جاسکتا ہے لیکن اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔ یہ کہے جانے پر کہ اس بل کی آسام میں مخالفت شروع ہوگئی ہے ، مسٹر جاوڈیکر نے کہا کہ بل کو پارلیمنٹ میں آنے دیجئے۔ لوگ اس کے التزامات جان کر اس کا خیر مقدم کریں گے ۔میڈیا نمائندوں نے جب دیگر بلوں کے بارے میں پوچھا تو انہوںنے یہ کہہ کر اس کے التزامات کو بتانے سے انکار کیا کہ پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کے بعد اطلاع مل جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ ریزرویشن کو دس سال کے لئے نفاذ کیا جاتا ہے اور سماجی انصاف کی سمت میں اس کا جائزہ لینے کے بعد اس کی مدت بڑھائی جاتی ہے ۔اب ریزرویشن کی مدت کو 2020 سے 2030 تک کیلئے بڑھایا جارہا ہے ۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اس بل کو غیر دستوری قرار دیا اور الزام عائد کیاکہ یہ بل ہندوستان کو مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے والا ملک نہیں بنائے جانے کے نظریہ کے مغائر ہے۔