ملین مارچ کے شرکاء کی پرامن واپسی، سیر و تفریح سے بھی اجتناب
حیدرآباد۔5جنوری(سیاست نیوز) حیدرآباد میں ہوئے ملین مارچ میں شرکت کرنے والوںنے نہ صرف اپنے کاروبار اور اسکول و کالجس بند رکھے بلکہ شہر میں جاری نمائش کا بھی گذشتہ یوم بائیکاٹ کیا گیا۔ شہر حیدرآباد میں سالانہ یکم جنوری سے شروع ہونے والی نمائش کا کل پہلا ہفتہ تھا لیکن اس کے باوجود نمائش میں عوام کا کوئی ہجوم نہیں دیکھا گیا بلکہ شہر کے مرکزی علاقہ میں جاری نمائش میں چند لوگ ہی موجود تھے جبکہ ملین مارچ میں شریک لاکھوں افراد اپنے افراد خاندان کے ساتھ مارچ میں شریک ہونے کے بعد سیدھے گھروں کو روانہ ہوگئے ۔دستور مخالف قانون ترمیم شہریت کے علاوہ این پی آر اوراین آر سی کے خلاف ہونے والے تاریخ ساز احتجاج کا وقت ختم ہونے کے بعد احتجاجیوں کی بڑی تعداد نے پرامن انداز میں اپنے مکانات کو روانہ ہوتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ یہ احتجاج ایک منظم قوم اور ملت کا ہے اور اس میں سماج کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ حیدرآباد کے ملین مارچ کے اختتام کے بعد شہر حیدرآباد کے اہم مرکزی سڑکوںپرزائد از تین گھنٹے ٹریفک میں خلل رہا اور احتجاج کے مقام سے کئی کیلو میٹر تک سڑکوں کے دونوں جانب پارکنگ دیکھی گئی۔ نمائش کے منتظمین کا احساس تھا کہ شہر حیدرآباد کے اس عظیم الشان فقید المثال احتجاج کے بعد احتجاج میں شامل خاندان بغرض تفریح نمائش کا رخ کریں گے لیکن احتجاجیوں نے اس ایک دن کیلئے نمائش کا بھی مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے ثابت کردیا کہ ان کا جمع ہونا تفریحی مقصد کے لئے نہیں تھا بلکہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے جمع ہوئے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ غم وغصہ کا اظہار کرنے کے دوران تفریح کا کوئی خیال نہیں آتا اسی لئے نمائش کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاجیوں نے محکمہ پولیس اور نمائش کے منتظمین کو بھی حیرت میں مبتلاء کردیا۔نامپلی میں منعقد ہونے والی اس نمائش میں ہفتہ ‘ اتوار اور تعطیل کے ایام میں بڑی تعداد میں لوگ بغرض تفریح اور خریداری پہنچتے ہیں لیکن گذشتہ یوم پہلے ہفتہ کے باوجود بھی نمائش میں ہجوم نہ ہونے کے سبب یہ بات واضح ہوگئی کہ شہر میں ہر طبقہ مرکزی حکومت کے ان فیصلوں کے خلاف شدید برہم ہے اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ اس مسئلہ پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے ریاست میں ایم پی آر اور این آر سی کے نفاذ سے انکار کے سلسلہ میں اعلان کرے ۔ احتجاج میں شریک افراد نے این پی آر اور این آر سی کے نفاذ کی صورت میں اس میں حصہ نہ لینے کا بھی واضح اعلان کردیا ہے۔