متنازعہ لو جہاد قانون، ایک مسلم نوجوان جیل میں قید

   


لکھنؤ : اترپردیش میں پولیس نے متنازعہ لو جہاد قانون کے تحت ایک نو عمر مسلم لڑکے کو جیل میں ڈال دیا ہے۔اس کی غیر مسلم دوست نے حالانکہ تبدیلی مذہب کے الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔اتر پردیش میں یوگی ادیتیہ ناتھ کی قیادت والی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میں انسداد تبدیلی مذہب کے متنازعہ قانون جسے، لو جہاد قانون بھی کہا جاتا ہے،کے تحت ایک نو عمر مسلم لڑکے کو گزشتہ دس دنوں سے جیل میں رکھنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ گزشتہ 27 نومبر کو نیا قانون نافذ العمل ہونے کے بعد اترپردیش میں بین المذاہب شادیوں کے خلاف کارروائیوں اور مسلم مردوں کو گرفتار کرنے کے واقعات میں اضافے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق اب تک تقریباً ایک درجن مقدمات درج اور کئی درجن افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔