واشنگٹن، 8 فروری (یواین آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سابق صدر بارک اوباما سے متعلق ایک متنازع اور نسل پرستانہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے معاملے پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا، جبکہ اس اقدام پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں تنقید کا سلسلہ جاری ہے ۔ ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک ایسی ویڈیو شیئر کی تھی جس میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے بارک اوباما اور ان کی اہلیہ مشعل اوباما کے چہروں کو بن مانس کے جسموں پر دکھایا گیا۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جس کے بعد اسے ٹرمپ کے اکاؤنٹ سے ہٹا دیا گیا، تاہم انہوں نے اس پر معذرت کرنے یا افسوس کا اظہار کرنے سے گریز کیا۔صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ویڈیو مکمل طور پر نہیں دیکھی تھی اور ان کا مقصد صرف وہ حصہ شیئر کرنا تھا جس میں 2020 کے صدارتی انتخابات کا ذکر موجود تھا۔ انہوں نے اس معاملے کی ذمہ داری اپنے اسٹاف پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو مناسب جانچ کے بغیر پوسٹ ہو گئی۔اگرچہ ٹرمپ نے نسل پرستی کی مخالفت کا اظہار کیا، لیکن ان کے سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ ریپبلکن جماعت کے بعض رہنماؤں نے بھی اس اقدام کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا طرزِ عمل امریکی صدارت کے منصب کے وقار کے خلاف ہے ۔ابتدائی طور پر وائٹ ہاؤس نے اس معاملے کو معمولی قرار دیا تھا، تاہم بعد میں ویڈیو ہٹانے کے ساتھ اسے عملے کی غلطی بتایا گیا۔