امام سے ہاتھا پائی کے بعد لاؤڈ اسپیکر کے تاروں کو توڑدیا گیا
آگرہ : اترپردیش کے متھرا ضلع میں واقع گوردھن قصبے کی بڑا بازار مسجد میں اچانک شرپسند عناصر داخل ہوئے اور امام کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور لاؤڈ اسپیکر کے تاروں کو توڑ دیا۔ سماج دشمن عناصر کا ایک گروپ گووردھن میں متھرا کے بڑے بازار علاقے میں ایک مسجد میں داخل ہوا اور مبینہ طور پر کچھ لاؤڈ اسپیکر کو نقصان پہنچانے کے علاوہ ’جے شری رام’ کے نعرے لگائے ۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور صورتحال پر قابو پالیا۔اس سلسلے میں مسجد کے امام سے موصولہ تحریر کی بنیاد پر 8 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس ملزمین کی تلاش کر رہی ہے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر گورو گروور نے بتایا کہ پیر کے روز اچانک شرپسند گووردھن قصبہ کے بڑا بازار کے علاقہ میں واقع مسجد میں داخل ہو گئے۔ احتجاج کرنے پر امام محمد الیاس سے ہاتھا پائی کی۔واقعہ کے خلاف علاقے کے لوگوں نے احتجاج کیا۔ ایس پی (دیہی) سریش چندر نے انہیں ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا تیقن دیا۔ امام محمد الیاس کی شکایت پر پولیس نے آئی پی سی کی دفعات 295 اے (جان بوجھ کر کسی بھی طبقہ کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرکے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا ہے)، 323 (رضاکارانہ طور پر تکلیف پہنچانا) اور 506 (مجرمانہ دھمکی) اور لاک ڈاؤن کے احکامات کی خلاف ورزی کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔محلے میں رہنے والے مسجد کے مصلی نے بتایا کہ کچھ سماج دشمن عناصر مسجد میں داخل ہوئے اور ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگایا۔انہوں نے الزام لگایا کہ جب میں نے ان سے پوچھ گچھ کی تو انہوں نے کہا کہ انہیں اوپر سے حکم دیا گیا ہے کہ یہاں کسی اذان کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ 65 سالوں سے یہاں رہ رہا ہوں اور میں نے اس طرح کی مذہبی مخالف سرگرمی کبھی نہیں دیکھی۔ وہ شہر کے پرامن ماحول میں خلل ڈالنا چاہتے تھے۔