مجالس مقامی انتخابات میں رائے دہندوں کی لہر کانگریس کے ساتھ

   

سدی پیٹ میونسپلٹی کی انتخابی مہم میں فیروز خاں کی شرکت، کانگریس کارکنوں میں جوش و خروش
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں مجالس مقامی کے جاریہ انتخابات میں مہم کے آخری دن کانگریس کی جانب سے کئی اہم قائدین نے پدیاترا اور رائے دہندوں سے ملاقات کرتے ہوئے انتخابی مہم چلائی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور نامپلی انچارج فیروز خاں نے آج سدی پیٹ میونسپلٹی کے کئی علاقوں میں کانگریس کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ فیروز خاں کی آمد سے کانگریس کارکنوں میں کافی جوش و خروش دیکھا گیا کیونکہ کورونا وباء کے پیش نظر سینئر قائدین انتخابی مہم سے دور ہیں۔ سدی پیٹ میں 43 بلدی وارڈز ہیں اور کانگریس کے امیدواروں کو رائے دہندوں کی بہتر تائید حاصل ہورہی ہے۔ فیروز خاں نے مختلف حلقوں میں رائے دہندوں سے ملاقات کرتے ہوئے تبدیلی کی اپیل کی اور کہا کہ میونسپلٹی میں جو کچھ بھی ترقیاتی کام انجام دیئے گئے وہ کانگریس دور حکومت کی دین ہیں۔ کانگریس دور حکومت میں قبرستان کے لئے اراضی الاٹ کی گئی تھی۔ مسلم تحفظات کے سبب 300 سے زائد مسلم نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ سینکڑوں طلبہ کو تحفظات کے نتیجہ میں تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے کارپوریٹرس کو منتخب کرنے کی صورت میں وہ عوامی خدمات کے بجائے چیف منسٹر کے سی آر اور ہریش راؤ کی ستائش میں مصروف رہیں گے لہذا کانگریس امیدواروں کو منتخب کرتے ہوئے ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ فیروز خاں نے کہا کہ عوام کو بھجن منڈلی اور خدمت گذاروں کے درمیان فیصلہ کرنا ہوگا۔ کانگریس کے تمام امیدوار عوامی خدمات کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ لاک ڈاؤن کے دوران عوام کی غیر معمولی خدمت کی تھی۔ اس کے علاوہ جاریہ دوسری لہر کے دوران بھی کانگریس قائدین عوام کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی کے اقدامات کررہے ہیں۔ فیروز خاں نے کہا کہ ٹی آر ایس میونسپلٹی میں کامیابی کیلئے دولت اور شراب کا سہارا لے رہی ہے۔ عوام کے ووٹ خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ کانگریس امیدوار عوام کو بہتر کارکردگی کا تیقن دے رہے ہیں۔ فیروز خاں نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت ہر سطح پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں کے سی آر ناکام ہوئے ہیں۔ فیروز خاں نے امید ظاہر کی کہ بلدی انتخابات میں تبدیلی کا آغاز ہوگا اور 2023 میں کانگریس پارٹی تلنگانہ میں برسراقتدار آئے گی۔ کانگریس کے امیدواروں نے شکایت کی ہے کہ کورونا کا بہانہ بناکر سینئر قائدین انتخابی مہم سے دور ہیں۔