حکومت کی جانب سے تحفظات کا تعین باقی، چیف جسٹس نے حکومت اور کمیشن کو دو ہفتے کی مہلت دی
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں مجالس مقامی کے چناؤ کے مسئلہ پر آج ہائی کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ الیکشن کمیشن کو انتخابات کے انعقاد کی ہدایت دینے کی اپیل کرتے ہوئے نریندر نامی شخص نے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین نے سماعت کی۔ عدالت نے اسٹیٹ الیکشن کمیشن کے وکیل سے انتخابات کے موقف پر سوال کیا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل ودیا ساگر نے عدالت کو بتایا کہ بی سی تحفظات کے مسئلہ پر کمیشن نے حکومت کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جواب ملنے کے بعد انتخابات کے انعقاد کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی جانب سے سابقہ تحفظات کی بنیاد پر انتخابات کی ہدایت کے باوجود الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد کمیشن نے انتخابی نوٹیفکیشن کو معطل رکھا ہے۔ حکومت کو تحفظات کا از سر نو تعین کرنا باقی ہے۔ تحفظات کے سلسلہ میں حکومت کو مکتوب روانہ کیا گیا ہے اور جواب ملتے ہی کمیشن کارروائی کرے گا۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ حکومت کو تحفظات کے بارے میں فیصلہ کیلئے تین ہفتے کا وقت درکار ہے۔ ہائی کورٹ نے حکومت اور اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو اندرون دو ہفتے جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دے کر سماعت ملتوی کردی۔ ہائی کورٹ نے کمیشن سے انتخابات کے انعقاد پر سوال کیا جس پر کمیشن کے وکیل نے وضاحت کی کہ کمیشن الیکشن کیلئے تیار ہے، تاہم حکومت سے تحفظات کا تعین باقی ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں تحفظات سے متعلق جی 9 پر حکم التواء جاری کردیا اور تلنگانہ حکومت کو سپریم کورٹ سے بھی کوئی راحت نہیں ملی ۔ 1