مجالس مقامی چناؤ، اہم پارٹیوں کی سوشل میڈیا پر سیاسی جنگ

   

سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمس کا بھرپور استعمال، ماہرین کی خدمات، بلدی وارڈس کی سطح پر گروپس کی تشکیل
حیدرآباد 5 فروری (سیاست نیوز) مجالس مقامی انتخابات میں پرچہ نامزدگی واپس لینے کی تاریخ گزرتے ہی مہم شدت اختیار کرچکی ہے۔ تمام اہم سیاسی پارٹیوں نے سرکردہ قائدین کو اسٹار کیمپینرس کے طور پر میدان میں اُتار دیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کانگریس کی انتخابی مہم کی قیادت کررہے ہیں جبکہ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ اور اسمبلی میں ڈپٹی لیڈر ہریش راؤ نے پارٹی انتخابی مہم کی کمان سنبھال لی ہے۔ بی جے پی انتخابی مہم کا آغاز قومی صدر نتن نبن نے کیا ہے۔ تینوں اہم سیاسی پارٹیوں کے علاوہ بائیں بازو اور دیگر علاقائی پارٹیاں بھی انتخابی میدان میں سرگرم ہیں۔ انتخابی مہم میں قائدین کی شخصی شمولیت سے زیادہ سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعہ رائے دہندوں کو راغب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ موجودہ حالات میں جبکہ نئی نسل سوشل میڈیا سے گہری وابستگی رکھتی ہے، ایسے میں سیاسی پارٹیوں نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کے ذریعہ مہم کو ترجیح دی ہے۔ فیس بُک، واٹس ایپ، یو ٹیوب، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمس کا بھرپور انداز میں استعمال کیا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں سیاسی پارٹیوں کی انتخابی مہم شخصی طور پر کم اور سوشل میڈیا پر زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر سیاسی جنگ سے پارٹیوں کو کس حد تک فائدہ ہوگا، اِس بارے میں ماہرین کی رائے مختلف ہے۔ تمام اہم سیاسی پارٹیوں نے سوشل میڈیا مہم کے لئے علیحدہ ٹیمیں تشکیل دی ہیں جن میں ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس، بی آر ایس اور بی جے پی نے سوشل میڈیا کی مہم پر روزانہ کی سطح پر نگرانی شروع کی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ رائے دہندوں تک پیام پہونچ سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ جس طرح انتخابی مہم پر بھاری خرچ کیا جارہا ہے اُسی طرح سینکڑوں کی تعداد میں سوشل میڈیا ماہرین کو پارٹیوں کے پیامات اور اپیلوں کو وائرل کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ہر بلدی وارڈ کی سطح پر واٹس ایپ گروپس تشکیل دیئے ہیں جن کے ذریعہ پارٹی امیدوار کی مہم اور کامیابی کے بعد ترقیاتی اور فلاحی کاموں سے متعلق وعدوں کو وائرل کرتے ہوئے رائے دہندوں سے اپیل کی جارہی ہے۔ بی آر ایس نے حکومت کی 10 سالہ کارکردگی کے کارناموں کو اُجاگر کیا ہے جبکہ کانگریس نے 2 برسوں میں انتخابی وعدوں کی تکمیل پر خصوصی پروگرامس تیار کئے ہیں جن کے ویڈیوز سوشل میڈیا میں وائرل کئے گئے۔ ویڈیو کلپس کے ذریعہ سماج کی اہم شخصیتوں کو رائے دہندوں کے روبرو سیاسی پارٹیوں کے حق میں ووٹ کی اپیل کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ضلع واری سطح پر سوشل میڈیا کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور وارڈ کی سطح پر مقامی نوجوانوں کو اِس مہم میں شامل کیا گیا ہے۔ انتخابی مہم کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ سوشل میڈیا مہم موجودہ حالات میں امیدواروں کی شخصی مہم سے زیادہ اثرانداز ہورہی ہے۔ 18 سال سے تقریباً 60 سال تک کی عمر کے مرد و خواتین سوشل میڈیا میں سرگرم ہیں اور ایک اندازہ کے مطابق روزانہ تقریباً 5 تا 7 گھنٹے سوشل میڈیا پر صرف کئے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں نے ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے گھر بیٹھے رائے دہندوں تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں سوشل میڈیا مہم سے سیاسی پارٹیوں کو فائدہ پہونچا تھا، یہی وجہ ہے کہ مجالس مقامی انتخابات میں سوشل میڈیا کا سہارا لیا جارہا ہے۔ میونسپلٹیز اور کارپوریشنوں کے رائے دہندے زیادہ تر شہری اور نیم شہری علاقوں کے ہوتے ہیں اور اُن میں سوشل میڈیا سے متعلق شعور پایا جاتا ہے۔ کئی امیدواروں نے مقامی سطح کے انفلوئنسرس کی خدمات حاصل کرتے ہوئے اپنے حق میں ریلس کو وائرل کرایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انتخابی اخراجات کے معاملہ میں الیکشن کمیشن بھی سوشل میڈیا پر کنٹرول نہیں کرسکتا۔ جلسے، جلوس، روڈ شو یا پیدل دورے کی صورت میں امیدواروں کو انتخابی خرچ کی تفصیلات پیش کرنی ہوتی ہیں لیکن سوشل میڈیا کے استعمال کے بارے میں کوئی پابندی یا گائیڈ لائنس نہیں ہیں جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے سیاسی پارٹیاں شخصی مہم سے زیادہ سوشل میڈیا مہم پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔1