مجالس مقامی چناؤ سے متعلق حکومت نے قانونی رائے طلب کی

   

ہائی کورٹ سے راحت نہ ملنے پر پارٹی سطح پر بی سی تحفظات پر عمل آوری
حیدرآباد19 اکتوبر (سیاست نیوز) مجالس مقامی میں پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چیف منسٹر ریونت ریڈی نے قانونی ماہرین سے رائے طلب کی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے 50 فیصد تحفظات کی موجودہ حد کے ساتھ مجالس مقامی کے چناؤ منعقد کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کانگریس پارٹی 42 فیصد بی سی تحفظات سے متعلق انتخابی وعدے کی تکمیل کے اقدامات کررہی ہے لیکن اسے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور ریاستی وزراء سے مشاورت کے ذریعہ دیگر امکانات کا جائزہ لیا ہے۔ چیف منسٹر نے قانونی ماہرین کو ہدایت دی کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا تفصیلی طور پر جائزہ لیں اور حکومت کو تجاویز پیش کریں۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ میں مداخلت سے انکار کردیا تھا۔ ریاستی کابینہ نے قانونی طور پر تحفظات کی اجازت نہ ملنے پر پارٹی کی سطح پر ٹکٹوں کی تقسیم میں 42 فیصد ٹکٹ پسماندہ طبقات کو الاٹ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اسی دوران اسٹیٹ الیکشن کمیشن کو مجالس مقامی کے چناؤ کے انعقاد کے لئے حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔ کمیشن نے تحفظات کے سلسلہ میں حکومت سے موقف کی وضاحت طلب کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور ریاستی حکومت کے جواب کے بعد دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کیا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں جواب داخل کرنے کے لئے حکومت اور الیکشن کمیشن نے دو ہفتوں کا وقت مانگا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مجالس مقامی کے انتخابات کے بارے میں حکومت اندرون ایک ہفتہ کوئی فیصلہ کرے گی۔ بتایا گیا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے جی او نمبر 9 پر جاری حکم التواء کی برخواستگی کے امکانات موہوم ہیں ایسے میں پارٹی کی سطح پر 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کے سواء کوئی چارہ نہیں ہے۔ 1