مجالس مقامی کے انتخابات میں ٹی آر ایس کو باغی امیدواروں کا سامنا

   

ورنگل میں سب سے زیادہ ناراض قائدین ، ریاستی وزراء کو متحرک کردیا گیا
حیدرآباد: ریاست کی دو کارپوریشنوں اور 5 میونسپلٹیز میں کامیابی کی تیاری کرنے والی برسر اقتدار ٹی آر ایس کو باغی امیدواروں سے خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ مجالس مقامی کے انتخابات میں 700 سے زائد باغی امیدواروں نے پرچہ جات نامزدگی داخل کئے ہیں۔ ورنگل ، کھمم کارپوریشنوں کے علاوہ دیگر میونسپلٹیز میں باغی امیدواروں کو منانے کیلئے ریاستی وزراء اور عوامی نمائندوں کو متحرک کیا گیا ہے۔ اگر تمام 7 مجالس مقامی میں برسر اقتدار پارٹی کے باغی امیدوار برقرار رہتے ہیں تو ٹی آر ایس کو نقصان کا اندیشہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس سے بھی بعض باغی امیدوار میدان میں ہیں لیکن برسر اقتدار پارٹی کو باغیوں سے زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 66 رکنی گریٹر ورنگل میونسپل کارپوریشن کے لئے 706 امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے جن کا تعلق ٹی آر ایس سے ہے۔ کانگریس سے زیادہ بی جے پی کے امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کیا ۔ بی جے پی سے 294 افراد نے 66 نشستوں کیلئے پرچہ جات نامزدگی داخل کئے ہیں۔ ورنگل میں ٹی آر ایس کے بعد بی جے پی اپنا خاصہ اثر رکھتی ہے۔ کانگریس سے 247 افراد نے پرچہ جات نامزدگی داخل کیا ۔ کھمم میونسپل کارپوریشن کیلئے ٹی آر ایس سے 163 قائدین نے پرچہ جات داخل کئے ہیں۔ کھمم کارپوریشن میں 60 نشستیں ہیں جس کے لئے بی جے پی سے 125 اور کانگریس سے 84 افراد نے نامینیشن داخل کیا ۔ ہر میونسپلٹی اور کارپوریشن میں 50 فیصد نشسیں خواتین کیلئے مختص کی گئی ہیں، لہذا خاتون امیدواروں کی کثیر تعداد انتخابی میدان میں دکھائی دے گی ۔ پرچہ نامزدگی کے ادخال کے آخری دن ریٹرننگ آفیسر کے دفتر کے روبرو خواتین کی طویل قطار دیکھی گئیں۔ ٹی آر ایس کے وزراء نے پرچہ داخل کرنے والے افراد سے ربط قائم کیا ہے تاکہ انہیں مقابلہ سے دستبردار کرایا جائے ۔ انہوں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جنہیں پارٹی کی جانب سے بی فارم جاری کیا جائے گی ، وہی مقابلہ کریں گے ۔ تمام مجالس مقامی نے کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ سی پی آئی ، سی پی ایم اور تلگو دیشم امیدواروں نے بھی پرچہ جات داخل کئے ۔ کئی حلقوں سے آزاد امیدوار بڑی تعداد میں مقابلہ کی تیاری میں ہیں۔ اسی دوران صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ نام واپس لینے کی آخری تاریخ یعنی 22 اپریل کو بی فارم امیدواروں کے حوالے کئے جائیں گے ۔ باغی امیدواروں کی صورت میں پارٹی کو نقصان کا اندیشہ محسوس کرکے ٹی آر ایس قائدین نے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ سے مدد طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کے ٹی آر باغی اور ناراض قائدین سے ربط قائم کرتے ہوئے انہیں مقابلہ سے دستبرداری کی ترغیب دیں گے۔