حیدرآباد۔ کسی شہر کو صرف اس کی تاریخی یادگاروں سے ہی نہیں بلکہ اس میں بسنے والی شخصیتوں سے بھی یاد کیا جاتا ہے اورا یسی ہی ایک شخصیت بی نرسنگ راو تھے جن کا دیہانت ہوگیا ہے ۔ بی نرسنگ راو ان افراد کے گروپ میں شامل تھے جنہوں نے شہر کے کئی اتار چڑھاو نو دہائیوں تک دیکھے تھے ۔ وہ حقیقی حیدرآبادی تھے جن کا پیر کو ایک طویل علالت کے بعد دیہانت ہوگیا ۔ بی نرسنگ راو 1932 میں پیدا ہوئے تھے ۔ وہ آل حیدرآباد اسٹوڈنٹس یونین کے پہلے صدر بھی تھے جب نظام کالج میں زیر تعلیم تھے ۔ وہ سابقہ حیدرآباد اسٹیٹ کے پہلے کانگریسی چیف منسٹر بی رام کرشنا راو کے بھانجے تھے ۔ بی نرسنگ راو قدیم اور جدید دور کے مابین ایک کڑی بھی تھے ۔ وہ فصیح اردو بولتے تھے کیونکہ ان کی پیدائش اس وقت ہوئی تھی جب اردو تلنگانہ میں سرکاری زبان تھی ۔